سیول: جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے اطلاع دی ہے کہ شمالی کوریا نے ہفتے کے روز بحیرہ جاپان کی جانب تقریباً 10 نامعلوم بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق یہ کارروائی پیانگ یانگ کی جانب سے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کے خلاف “خوفناک نتائج” کی وارننگ دینے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔ جنوبی کوریا فوج کے مطابق یہ میزائل مقامی وقت کے مطابق دوپہر 1 بج کر 20 منٹ پر شمالی کوریا کے علاقے سنان سے فائر کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ تیار رہے، پیٹرول 200 ڈالر فی بیرل تک جائے گا،ترجمان ایرانی افواج ابراہیم ذوالفقاری
جاپان کی وزارت دفاع نے بھی اس لانچنگ کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر بتایا کہ شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ طور پر بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب جنوبی کوریا کے وزیراعظم کم من سیوک نے واشنگٹن میں میڈیا کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کو “اچھا” سمجھتے ہیں اور یہ ملاقات مارچ کے آخر میں ٹرمپ کے دورہ چین کے موقع پر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا کی ایران کے جزیرہ خارگ پر بمباری،فوجی اہداف تباہ کردیئے، ٹرمپ کا دعویٰ
شمالی کوریا کے رہنما کی بہن کم یو جونگ نے جاری فوجی مشقوں “فریڈم شیلڈ” کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مشقیں ایک ایسے نازک وقت میں ہو رہی ہیں جب عالمی سلامتی کا ڈھانچہ تیزی سے تباہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو بھی “جارحیت” قرار دیتے ہوئے امریکہ کو عالمی بدمعاش قرار دیا۔ شمالی کوریا نے حالیہ سفارتی کوششوں کو محض ایک “دھوکہ دہی” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
1.北朝鮮は本日13時24分頃、北朝鮮西岸付近から、複数発の弾道ミサイルを、北東方向に向けて発射しました。詳細については現在日米韓で緊密に連携して分析中ですが、発射された弾道ミサイルは、最高高度約80km程度で、約340km程度飛翔し、落下したのは朝鮮半島東岸付近の我が国の排他的… https://t.co/14P6mnyD6A pic.twitter.com/awU5LyvDbw
— 防衛省・自衛隊 (@ModJapan_jp) March 14, 2026




