اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے واضح کیا ہے کہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو وہی قانونی حیثیت حاصل ہے جو روایتی فزیکل شناختی کارڈ کو حاصل ہے، اس لیے تمام سرکاری اور نجی اداروں کو اسے بطور مستند شناختی دستاویز قبول کرنا چاہیے ۔
نادرا کے ترجمان کے مطابق بعض اداروں کی جانب سے شہریوں سے ڈیجیٹل شناختی کارڈ کے باوجود فزیکل شناختی کارڈ یا اس کی فوٹو کاپی طلب کی جا رہی ہے، جو کہ موجودہ قانونی اور ضابطہ جاتی طریقہ کار کے خلاف ہے ۔
نادرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نادرا آرڈیننس کے تحت ڈیجیٹل شناختی ضوابط متعارف کرائے گئے ہیں ، جن کے مطابق ڈیجیٹل شناختی اسناد کو مکمل طور پر قابلِ قبول اور مستند شناختی ثبوت قرار دیا گیا ہے ۔
اس نظام کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شہریوں کو سہولت فراہم کرنا اور مختلف اداروں میں شناختی کارڈ کی بار بار فوٹو کاپیاں جمع کرانے کی ضرورت کو کم کرنا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نادرا حکام کابڑا اقدام، 42 لاکھ شناختی کارڈ منسوخ،اہم ہدایات جاری
ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ کے استعمال سے نہ صرف شہریوں کو آسانی ہوگی بلکہ سرکاری اور نجی اداروں میں کاغذی کارروائی میں بھی نمایاں کمی آئے گی ۔ اس اقدام سے وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ جدید اور محفوظ ڈیجیٹل نظام کو فروغ ملے گا ۔
نادرا نے تمام سرکاری محکموں، مالیاتی اداروں، عوامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں اور ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ان ہدایات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور شہریوں سے ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو بطور درست شناخت قبول کریں ۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اگر کسی شہری کو اس حوالے سے کسی قسم کی مشکل پیش آئے یا کسی ادارے کی جانب سے ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو تسلیم نہ کیا جائے تو وہ نادرا کے سرکاری شکایتی نظام کے ذریعے اپنی شکایت درج کرا سکتا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر:الیکشن کی تیاریاں، الیکشن کمیشن اور نادرا کے درمیان معاہدہ طے پاگیا
ایسی شکایات موصول ہونے پر متعلقہ اداروں کے خلاف ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ شہریوں کو درپیش مسائل کا بروقت حل ممکن بنایا جا سکے ۔




