ایران امریکہ جنگ، سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر سوال اٹھا دیے

سابق پاکستانی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں کوئی بھی ملک جنگ رکوانے یا صلح کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کر رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی سب سے بڑی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتماد کی کمی ہے۔

ایک نجی ٹی وی پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایک طرف تو مذاکرات کی بات کرتے ہیں لیکن دوسری طرف جنگی اقدامات بھی اٹھاتے ہیں۔ اسی وجہ سے کوئی بھی ان پر بھروسہ نہیں کر پا رہا اور یہی صورتحال پوری دنیا میں ٹینشن بڑھانے کا باعث بن رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کا ایران جنگ ختم کرنے کا اعلان! عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہو گیا

اسی پروگرام میں ائیر مارشل ریٹائرڈ ارشد ملک نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی نئی قیادت کو وہاں کے عوام کی پوری حمایت حاصل ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے ایران میں حکومت بدلنے یا رجیم چینج کے تمام امکانات اب تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے خطے میں طاقت کا توازن مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔

وائس ایڈمرل ریٹائرڈ محمد سلیم نے بھی اس نازک صورتحال پر تبصرہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران اور خلیجی ملکوں کے درمیان براہ راست لڑائی شروع ہوئی تو یہ وہی کھیل ہوگا جو اسرائیل چاہتا ہے یعنی اس سے پورے علاقے میں مزید بے امنی پھیلے گی۔

مزید پڑھیں: ایران کی نئی قیادت کو بھی نشانہ بنایا جائیگا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

ڈاکٹر ملیحہ لودھی، ارشد ملک اور محمد سلیم کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان اور اس کے پڑوسی ممالک کو بہت سوچ سمجھ کر چلنا ہوگا تاکہ کسی بھی اچانک ہونے والے واقعے کے برے اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔

Scroll to Top