کہوٹہ (کشمیر ڈیجیٹل)ڈسٹرکٹ حویلی کہوٹہ میں ہیلتھ ایمپلائز فیڈریشن کے زیر اہتمام ہیلتھ ملازمین کا احتجاج 24 ویں دن میں داخل ہوگیا،
ہیلتھ ملازمین کا کہنا تھا کہ جب تک ہمارے جملہ مطالبات پورے نہیں ہوتے ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
ہیلتھ ملازمین نے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہمارے جملہ مطالبات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ہمارے مطالبات حل کریں ورنہ ہم شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کے جو بھی مطالبات ہیں انہیں حکومت فوری طور پر منظور کرے اور عوامی کی بڑھتی ہوئی مشکلات کو ختم کیا جائے ۔ وزیراعظم فیصل راٹھور سے اپیل ہے کہ ڈاکٹرز حضرات کے جائز مطالبات پورے کئے جائیں ، ڈی ایچ کیوہسپتال میں گزشتہ ایک ماہ سے ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث خواتین خوار ہورہی ہیں ۔
صدر ہیلتھ ایمپلائز فیڈریشن ڈاکٹر نعمان ، ڈاکٹرسید آفتاب بخاری،ڈاکٹر ہارون کا کہنا تھا کہ حکومت ہمارے چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری دے تو ہم ہڑتال ختم کردیں گے ۔ اگر حکومت ہمارے مطالبات نہیں مانتی تو پھر ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:صوبائی وزراء کا مفت فیول بند، افسران کیلئے پٹرولیم الائونس میں 50 فیصد کمی کااعلان
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے چند ایک مطالبات ہیں جوکہ ہمارا حق ہے اور ہم اپنے مطالبات کی منظوری تک پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ پیرا میڈیکس سپورٹنگ سٹاف نرسز الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز، ہیلتھ ورکرز اینڈ سپروائیزر MCHٹیکنیشن،سٹور سیکشن، کمپیوٹر آپریٹر الگ الگ سروسز سٹریکچر چار درجاتی فارمولا تناسب1:15:34:50کے مطابق نوٹیفکیشن جاری کیا جائے نیز ایم سی ایچ ٹیکنالوجی کا عدالت العالیہ کے فیصلہ کی روشنی میں بیسک سکیل بی۔12کیا جائے۔
ہیلتھ فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لایا جائے،محکمہ صحت کے لئے بی۔17 کی گریجویشن کی شرط ختم کی جائے چونکہ محکمہ صحت عامہ کے ملازمین کے پاس ٹیکنیکل تعلیم سگلز ہوتی ہیں۔
الاؤنسز2026ء کی رننگ بیسک تنخواہ کے مطابق دیئے جانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے نیز سپریم کورٹ آزادکشمیر کے فیصلہ کے مطابق ریسک الاؤنس وجملہ الاؤنس بقایاجات کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جائے۔
تمام کیڈرز ہیلتھ ورکرز، سپورٹنگ سٹاف، نرسز، الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز،سٹور سیکشن، پیرا میڈیکس کیلئے ٹریننگ پالیسی مرتب کی جائے۔
ہیلتھ انشورنش،صحت سہولت پروگرام کے بحالی نوٹیفکیشن بحالی فیصلہ ہائی کورٹ تمام ڈاکٹرز اور سٹاف کوشیئردیا جائے۔نیز بقایا جات کی ادائیگی مقررہ مدت کے اندر کی جائے۔
پرسنل الاؤنسز1990ء سے ملازمین کو دیا جا رہا ہے تمام پبلک سیکٹرز ملازمین کو 200روپے کے بجائے بلا تخصیص2000/-روپے کیا جانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔(مرحوم ممتاز حسین راٹھورسابق وزیراعظم آزادکشمیر(وقت) نے دیا تھا۔آج کے دور کے تقاضوں کے ہم آہنگ کیا جائے۔
ایکٹ2016، آرڈیننس 2023ء کو ختم کیا جائے۔
گورنمنٹ نے جو علاج کے لئے ہسپتالوں میں چارجز چٹس فیسزجو لاگو کیا وہ صرف ہسپتالوں کے لئے تھا جبکہ آر ایچ سی، بی ایچ یو، سی ڈی، فرسٹ ایڈ پوسٹ ہسپتال کی تعریف میں نہیں آتے۔آڈٹ اعتراض کو ختم کروایا جائے اور آئیندہ کے لئے نیو نوٹیفکیشن واضع طور پر جاری کیا جائے تا کہ ابہام نہ رہے۔
۱۱۔ کم سے کم اجرت40000/-روپے ماہوار پر عملدرآمد کروایا جائے نیز پرائیویٹ ہسپتالوں میں کام کرنے والے پیرا میڈیکس، ٹیکنالوجسٹ کو بمطابق نوٹیفکیشن ادائیگی یقینی بنانے کیلئے نوٹیفکشن پر عملدرآمدکیلئے پالیسی بنائی جائے۔
ایم سی ایچ پروگرامز پی سی ون مالی سال2024-25میں موجودملازمین کو پاکستان طرز پر نارمل میزانیہ پر مستقل کیا جائے نیزاین آئی ایس پی پروگرامز کو بھی نارمل میزاینہ پر کیا جائے۔
نظامت اعلیٰ صحت عا مہ میں ڈائریکٹر الائیڈ ہیلتھ پروفشنلز اور ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں اسسٹنٹ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسز میں اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی آسامیاں تخلیق جاکر الائیڈ ہیلتھ پروفشنلز کو تعینات کیا جائے۔
ہیلتھ ورکرز،سپروائیزر کی پنشن کی حوالہ سے ابہام ختم کئیے جائیں اور بلا تخصیص پنشن جاری کی جائے۔پیرا میڈیکس کی پروموشن ریوائز سروس سٹریکچر 2021ء سے کئے جائیں۔
قواعد میں تین سالہ قدغن کے بجائے مجموعی طور پر سروس شمار کی جائے۔پاکستان طرز پر آزادکشمیر میں بھی جمع شدہ جی پی ایف پر منافع دیا جائے۔
سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ڈاکٹرز کے بقایا جات نہیں دیئے جا رہے۔ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ تین درجارتی اور چار درجاتی فارمولا کو بحال کیا جائے۔
اے سی آرز مکمل ہونے کے باوجود تمام سیلکشن بورڈ نہیں ہو رہے سلیکشن بورڈ کئے جائیں۔تمام کیڈرز کو ہارڈ ایریا الاؤنس دیا جائے۔
سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق بی ایچ یو فیمل ڈاکٹرز کو الاؤنسز کی ادائیگی کی جائے۔فیمیل ایڈہاک ڈاکٹرزکو زچگی رخصت دی جائے اور ہاؤس آفیسر کے لئے ہاسٹل اور دیگر سہولیات کا مہیا کرنا۔
سٹاف کی شارٹیج کو کم کرنے کیلئے نرسز، الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کی آسامی ٹی ایچ کیواور ڈی ایچ کیو ہسپتال ھاء میں تخلیق کی جائیں۔نائٹ ڈیوٹی 12گھنٹے کی ہوتی ہے جو کہ ڈبل ڈیوٹی ہے۔اس سلسلہ میں ڈے آف دیا جائے یا پھر نائٹ الاؤنس دیا جائے۔
متعدد مرتبہ درج بالا مطالبات پیش کئے گئے لیکن عمل درآمد نہیں ہوا باامر مجبوری مورخہ6فروری2026ء(بروز جمعہ) کو تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر پر ملازمین صحت عامہ احتجاج کریں گے اور مطالبات حل نہ ہونے پر مورخہ13فروری(بروز جمعہ)سے دو گھنٹے 10.00بجے سے12.00بجے دن تک احتجاج کیا جائے گا اگر مطالبات حل نہ ہوئے تو 26فروری2026ء کو اگلے لائے عمل کا اعلان کیا جائے گا۔




