اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت بھارت کی جانب سے کی جانے والی آبی دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے ۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے کسی بھی عمل کو مسترد کرتا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے بلکہ یہ علاقائی امن اور سلامتی کیلئے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے ۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی پاسداری پر مجبور کرے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کیلئے ایران میں فوری جنگ بندی ضروری ہے، عاصم افتخار
واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ 19 ستمبر 1960 کو پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت دریاؤں کی تقسیم اس طرح کی گئی کہ پاکستان کو مغربی دریا — سندھ، جہلم اور چناب — جبکہ بھارت کو مشرقی در یا ئےراوی، بیاس اور ستلج کا کنٹرول دیا گیا ۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت کو مغربی دریاؤں پر صرف محدود پیمانے پر پن بجلی کے منصوبے بنانے کی اجازت ہے لیکن اسے پانی روکنے یا اس کے بہاؤ میں بڑی تبدیلی کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ اس کے باوجود بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشن گنگا سمیت متعدد پن بجلی منصوبے تعمیر کر رہا ہے، جس پر پاکستان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے حمایت جاری رکھے گا،عاصم افتخار
زرعی ملک ہونے کے باعث پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ دریاؤں کے پانی پر انحصار کرتا ہے۔ اسی وجہ سے سندھ طاس معاہدہ پاکستان کیلئے نہایت اہمیت رکھتا ہے، اور اس کی خلاف ورزی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے ۔




