میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ایرانی انٹیلیجنس نے بالواسطہ طور پر امریکا کو جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ تاہم، امریکی حکام نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس وقت کسی قسم کی فعال بات چیت جاری نہیں ہے۔
سی این این کی رپورٹ اور پسِ پردہ رابطے:
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق، یہ پیغامات ایک تیسرے ملک کے ذریعے سی آئی اے (CIA) تک پہنچائے گئے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان رابطوں کے باوجود تاحال جنگ بندی یا تنازع کے خاتمے کے حوالے سے کوئی سنجیدہ پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی سینیٹ ،ایران پر حملوں کیلئے کانگریس سے منظوری لینےکی قرارداد مسترد
امریکا اور اسرائیل کا سخت ترین عسکری مرحلہ:
مذاکرات کی خبروں کے برعکس، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل اس وقت ایران کے میزائل پروگرام کو کمزور کرنے اور اسے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ایک سخت عسکری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ امریکی وزیرِ دفاع نے حالیہ بریفنگ میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ امریکا کی کارروائی ابھی صرف شروع ہوئی ہے۔
ایلچی اسٹیو وٹکوف کا موقف اور ایرانی تردید:
امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، جو ماضی میں ایران کے ساتھ مذاکرات کا حصہ رہے ہیں، انہوں نے بھی حالیہ دنوں میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے کسی بھی رابطے کی نفی کی ہے۔ دوسری جانب ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران نے امریکا کو کوئی پیغام نہیں بھیجا اور اس وقت تہران کی تمام تر توجہ صرف اپنے دفاع اور حفاظت پر مرکوز ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج: کیا آپ 13 ہزار روپے کے اہل ہیں؟ اپنی اہلیت چیک کرنے کا طریقہ جانیں
چین کی ثالثی کی پیشکش:
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے اعلان کیا ہے کہ چین اس جنگ میں ثالثی کے لیے اپنا نمائندہ خصوصی مشرق وسطیٰ بھیجے گا تاکہ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان تنازع کو کم کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، لیکن پسِ پردہ رابطے مستقبل میں سفارتی راستے کھلنے کا اشارہ دے سکتے ہیں۔




