مظفرآباد: وراثتی فراڈ بے نقاب، ڈسٹرکٹ جج کا سخت حکم، پولیس کو فوجداری کارروائی کا حکم

مظفرآباد: ڈسٹرکٹ جج مظفرآباد فاروق محمود نے وراثتی تنازعہ سے متعلق ایک اہم اور دور رس اثرات کے حامل فیصلے میں مبینہ دھوکہ دہی اور عدالت کو گمراہ کرنے کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کو فوجداری کارروائی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

مقدمہ بعنوان ریشم جان بنام حسنین علی وغیرہ کی سماعت کے دوران عدالت کے روبرو یہ امر ثابت ہوا کہ متوفی محمد خورشید حسین عباسی کی جائیداد کے حوالے سے جاری شدہ جانشینی سرٹیفکیٹ مورخہ 06 اپریل 2022 کو عدالت پہلے ہی 12 اکتوبر 2024 کے حکم کے ذریعے منسوخ کر چکی تھی،

تاہم اس کے باوجود غیر منقولہ جائیداد کے سرکاری ریکارڈ میں ضروری درستگی نہیں کرائی گئی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمتوں میں اچانک بڑی کمی، فی تولہ سونا ہزاروں روپے سستا ہو گیا

عدالتی ریکارڈ کے مطابق متوفی کی حقیقی والدہ، جو شرعی طور پر قانونی ورثاء میں شامل تھیں، کو جانشینی سرٹیفکیٹ کے حصول کے وقت مخفی رکھا گیا اور ان کے جائز حصص کو نظر انداز کیا گیا۔

بعد ازاں عدالت میں موقف درست تسلیم کیے جانے پر مذکورہ سرٹیفکیٹ منسوخ کر دیا گیا

متعلقہ افراد کو ہدایت کی گئی کہ اگر جائیداد یا مالی فوائد حاصل کیے گئے ہیں تو سائلہ کے مقررہ حصے کے مطابق رقم عدالت میں جمع کروائی جائے اور محکمہ مال کے ریکارڈ میں باقاعدہ اندراج کروا کر نقولات پیش کی جائیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کتنا مہنگا ہو سکتاہے؟

عدالت نے اپنے حکم میں نوٹ کیا کہ ایک سال چار ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا،

جو نہ صرف سائلہ کو اس کے شرعی و قانونی حق سے محروم کرنے کی کوشش ہے بلکہ عدالت کے ساتھ دھوکہ دہی کے مترادف بھی ہے۔

ڈسٹرکٹ جج نے قرار دیا کہ بادی النظر میں ذمہ داران اور گواہان ایسے جرائم کے مرتکب پائے جاتے ہیں جو قابلِ دست اندازی پولیس ہیں۔

چنانچہ متعلقہ ایس ایچ او کو حکم کی مصدقہ نقل ارسال کر دی گئی ہے تاکہ شفاف، غیر جانبدار اور بلاامتیاز فوجداری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عدالتی نظام پر عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق اگر پولیس عدالتی ہدایات کی روشنی میں میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی کرتی ہے تو نہ صرف متاثرہ خاتون کو انصاف ملے گا بلکہ مستقبل میں وراثتی فراڈ جیسے معاملات کی حوصلہ شکنی بھی ہو گی۔

شہری اور سماجی حلقوں نے عدلیہ کے بروقت اور دوٹوک اقدام کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تفتیشی عمل کو تیز رفتار اور قانون کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور کسی بھی وارث کو اس کے جائز حق سے محروم نہ کیا جا سکے۔

Scroll to Top