آزاد کشمیر حکومت اکثریت کھو چکی، رویہ درست نہ کیا تو عدم اعتماد لائیں گے: مشترکہ اپوزیشن کا اعلان

مظفرآباد : آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مشترکہ اپوزیشن نے سینٹرل پریس کلب میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پر کڑی تنقید کی اور واضح کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی اکثریت کھو چکی ہے۔ پریس کانفرنس میں سابق وزرائے اعظم راجہ فاروق حیدر خان، چوہدری انوار الحق، اور قائدِ حزبِ اختلاف شاہ غلام قادر سمیت دیگر ممبران اسمبلی شریک تھے۔

قائدِ حزبِ اختلاف شاہ غلام قادر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر ایک حساس خطہ ہے جہاں عوامی مسائل پر صرف اسمبلی میں بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کے پاس واضح اکثریت نہیں ہے، اگر ان کا رویہ درست نہ ہوا تو عدم اعتماد کی تحریک لائی جا سکتی ہے۔ شاہ غلام قادر کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کا دور قریب ہے، اسی لیے ہم فی الحال صرفِ نظر کر رہے ہیں۔

سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ ہمارا خیال تھا کہ یہ حکومت انتخابات کے لیے ایک عارضی انتظام ہے، لیکن پانچویں وزیراعظم کے آنے کی پیش گوئی اب سچ ثابت ہوتی نظر آرہی ہے۔ انہوں نے اسمبلی کی منظوری کے بغیر نئے منصوبے لانے کی مخالفت کی اور کہا کہ پاکستان اس علاقے کو والی وارث کے بغیر نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ یہ اس کی آئینی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چیف الیکشن کمیشن کا معمہ حل ہونے کے قریب پہنچ گیا ، اہم خبر

سابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق نے پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سیاسی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ حکومت کورم پورا ہونے کے باوجود اسمبلی سے واک آؤٹ کر گئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اسمبلی اجلاس کے لیے ریکوزیشن جمع کرا دی گئی ہے اور حکومت کو آکر جواب دینا ہوگا۔

خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ ہم اسمبلی کا مذاق نہیں بننے دیں گے اور چاہتے ہیں کہ اسمبلی اپنی مدت پوری کرے۔ انہوں نے انتقامی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے الیکشن کمشنر کی فوری تقرری اور بروقت انتخابات کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے خبردار کیا کہ حکومت کو ڈی اسٹیبل کرنا کوئی مشکل کام نہیں، یہ چٹکی بجانے کی دیر ہے۔

مزید پڑھیں: کجھور سے روزہ افطار کرنا صحت کے لیے مفید کیوں؟ ماہرینِ غذائیت نے بڑی وجہ بتا دی

Scroll to Top