اسلام آباد: پاکستان کی آٹو انڈسٹری کے لیے سال 2026 کا آغاز انتہائی خوش آئند ثابت ہوا ہے۔ جنوری 2026 میں گاڑیوں کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے گزشتہ 43 ماہ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ مارکیٹ ماہرین اس تیزی کو ملک میں معاشی استحکام اور صارفین کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
فروخت میں اضافے کے بنیادی محرکات:
پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، اس ریکارڈ ساز اضافے کی بڑی وجہ شرح سود میں ہونے والی کمی ہے۔ بینکوں کی جانب سے آٹو فنانسنگ کی بہتر سہولیات اور مارکیٹ میں نئے ماڈلز کی آمد نے خریداروں کو گاڑیوں کی خریداری کی جانب راغب کیا۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس گاڑیوں کی دستیابی نے صارفین کی دلچسپی کو مزید مہمیز دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کے ذخائر رکھنے والے ٹاپ 10 ممالک کون سے ہیں؟ 2026 کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری
اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ:
رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 میں مجموعی طور پر 23 ہزار 55 گاڑیاں فروخت ہوئیں، جو کہ دسمبر 2025 کے مقابلے میں 74 فیصد اور جنوری 2025 کے مقابلے میں 36 فیصد زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ دسمبر 2025 میں صرف 13 ہزار 280 یونٹس فروخت ہوئے تھے۔ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران مجموعی فروخت ایک لاکھ 11 ہزار 377 یونٹس رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 43 فیصد زائد ہے۔
موٹر سائیکل، رکشہ اور بھاری گاڑیوں کی صورتحال:
نہ صرف کاروں بلکہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھی گئی۔ جنوری میں موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی فروخت ایک لاکھ 81 ہزار 790 یونٹس تک پہنچ گئی، جو سالانہ بنیادوں پر 31 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح بھاری گاڑیوں کے شعبے میں ٹرکوں اور بسوں کی فروخت میں 77 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور 1,101 یونٹس فروخت ہوئے۔ تاہم، ٹریکٹر انڈسٹری میں مندی کا رجحان رہا اور جنوری میں صرف 2,505 یونٹس فروخت ہو سکے، جو گزشتہ ادوار کے مقابلے میں کم ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکہ اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ: بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی
ماہرین کا ماننا ہے کہ آسان اقساط اور سازگار مالیاتی پالیسیوں کی بدولت آٹو سیکٹر میں یہ مثبت رجحان آنے والے مہینوں میں بھی برقرار رہنے کی توقع ہے۔




