معروف اسپورٹس برانڈ ‘ایڈیڈاس’ نے ونٹر اولمپکس کے شرکاء کے لیے ایک ایسا جدید اور انقلابی ٹریک سوٹ تیار کیا ہے جو کھلاڑیوں کو سخت ترین سردی میں بھی اندرونی طور پر گرم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ لباس بظاہر ایک روایتی ٹریک سوٹ کی طرح دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اندر نصب جدید حرارتی ٹیکنالوجی اسے دنیا کے دیگر ملبوسات سے ممتاز بناتی ہے۔
اس لباس کی خاص بات اس میں موجود ‘ہیٹنگ پیڈز’ ہیں، جو کھلاڑیوں کے اہم پٹھوں (Muscles) کو ہدف بناتے ہیں۔ یہ پیڈز ٹریننگ یا وارم اپ کے بعد بھی جسمانی درجہ حرارت کو گرنے نہیں دیتے، جس سے کھلاڑیوں کی توانائی برقرار رہتی ہے اور وہ اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی وفد کی لاہور آمد، پاکستان نے میچ کھیلنے کے لیے کڑی شرائط سامنے رکھ دیں
ایڈیڈاس کی ایتھلیٹ پرفارمنس ڈائریکٹر، مارگریٹا ریکولیا کے مطابق، کمپنی گزشتہ کئی برسوں سے اس نوعیت کے سسٹمز پر تحقیق کر رہی ہے۔ اس سے قبل 2012 کے لندن اولمپکس میں ٹریک سائیکل سواروں کے لیے بھی ایسی ہی ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی تھی تاکہ وہ پٹھوں کا موزوں درجہ حرارت حاصل کر کے اپنی طاقت کا بھرپور استعمال کر سکیں۔ اب اسی سسٹم کا جدید ترین ورژن خاص طور پر ونٹر اولمپکس کے لیے ڈھالا گیا ہے۔
یہ لباس خاص طور پر ان پٹھوں پر توجہ دیتا ہے جو شدید سردی میں جلد متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس میں ایک ‘بوسٹ موڈ’ (Boost Mode) بھی شامل کیا گیا ہے، جسے فعال کر کے ضرورت کے وقت اضافی حرارت حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ فیچر منفی درجہ حرارت میں عالمی معیار کی کارکردگی دکھانے والے ایتھلیٹس کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔




