حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر کی بیوہ خواتین کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ‘بیوہ سپورٹ کارڈ’ اسکیم کی حتمی منظوری دے دی ہے۔
اس اسکیم کا بنیادی مقصد بیوہ خواتین پر مالی بوجھ کو کم کرنا اور ان کے بچوں کی کفالت میں حکومتی سطح پر مدد فراہم کرنا ہے۔ محکمہ زکوٰۃ اینڈ ویلفیئر کے زیرِ انتظام چلنے والی اس اسکیم کے تحت مستحق بیوہ خواتین کو براہِ راست مالی ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: ناقص انتظامات پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دفتر سیل
امداد کی تفصیلات اور بچوں کے لیے اضافی رقم:
اس نئی سرکاری اسکیم کے مطابق ہر مستحق بیوہ خاتون کو ایک لاکھ روپے کی نقد رقم فراہم کی جائے گی۔ حکومت نے نہ صرف بیوہ خواتین بلکہ ان کے یتیم بچوں کی ضروریات کا بھی خاص خیال رکھا ہے۔ اسکیم کے تحت اگر بیوہ کا ایک بچہ ہے تو اسے بنیادی رقم کے علاوہ مزید 25 ہزار روپے دیے جائیں گے، جبکہ دو بچوں کی صورت میں بیوہ خاتون کو 50 ہزار روپے کی اضافی مالی معاونت فراہم کی جائے گی، تاکہ بچوں کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
بجٹ اور نفاذ کا طریقہ کار:
محکمہ زکوٰۃ اینڈ ویلفیئر نے اس بڑے فلاحی منصوبے کے لیے 4 ارب روپے کے خطیر فنڈز مختص کیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ رقم بیوہ خواتین کی معاشی حالت کو بہتر بنانے اور انہیں دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے خود مختار بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس اسکیم کو رواں ماہ کے آخر تک صوبے بھر میں نافذ کر دیا جائے گا، جس کے فوراً بعد مستحق خواتین کی رجسٹریشن اور رقم کی منتقلی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔




