میٹنگ

غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی میٹنگ 19 فروری کو ہو گی، ٹرمپ میزبانی کریں گے

غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی باضابطہ میٹنگ 19 فروری کو امریکا میں منعقد کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جس کے لیے بورڈ کے اراکین کو دعوت نامے ارسال کر دئیے گئے ہیں ۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اجلاس کی میزبانی واشنگٹن میں واقع یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں کی جائے گی، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ بورڈ ممبران اور غزہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کا استقبال کریں گے ۔

غزہ بورڈ آف پیس میں اب تک 25 ممالک شمولیت اختیار کر چکے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اس بورڈ کے قیام کو امریکا کی جانب سے غزہ کے مستقبل سے متعلق ایک نئے عالمی فریم ورک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی،دفترخارجہ

تاہم اس اقدام کو یورپ کے بعض اہم ممالک کی مخالفت کا سامنا ہے ۔ برطانیہ، فرانس اور ناروے سمیت کئی یورپی ریاستوں نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ فورم اقوام متحدہ کے کردار اور اختیارات کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے ۔

دلچسپ پیش رفت کے طور پر اسرائیلی وزیراعظم، جنہوں نے ابتدا میں اس بورڈ پر تنقید کی تھی، بعد ازاں غزہ بورڈ آف پیس کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں، جسے امریکا کے لیے ایک سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے ۔بورڈ کے پہلے اجلاس کا ایجنڈا تاحال منظرِ عام پر نہیں آیا، تاہم امریکی میڈیا کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کا قیام صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ غزہ ڈیل کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کا حصہ ہے ۔

اس مجوزہ منصوبے میں غزہ کی تعمیر نو، انتظامی ڈھانچے کی تشکیل اور حماس کو غیر مسلح کرنے جیسے حساس اور اہم نکات شامل ہیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بحرین بھی ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہوگیا

مبصرین کے مطابق یہ بورڈ غزہ کے سیاسی، سیکیورٹی اور معاشی مستقبل کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم عالمی سطح پر اس کی قبولیت اور مؤثریت پر سوالات بدستور موجود ہیں ۔

Scroll to Top