مظفرآباد: محکمہ برقیات مظفرآباد کے اعلیٰ حکام کی مبینہ ہٹ دھرمی اور بے حسی نے ایک اور گھر کا چراغ گل کر دیا۔ 22 سال تک مستقل ہونے کا خواب دیکھنے والا ورک چارج ملازم اشتیاق میر ذہنی دباؤ اور برین ہیمرج کے باعث خالقِ حقیقی سے جا ملا۔
تفصیلات کے مطابق، مظفرآباد میں محکمہ برقیات کے ملازم اشتیاق میر گزشتہ دو دہائیوں سے عارضی بنیادوں پر فرائض انجام دے رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق اشتیاق میر اور ان کے درجن سے زائد ساتھی گزشتہ دو سالوں سے مستقل ہونے کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ انہوں نے اس سلسلے میں احتجاج اور بھوک ہڑتالیں بھی کیں، لیکن محکمہ کے اعلیٰ حکام کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔
یہ بھی پڑھیں: تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے محکمہ برقیات کےملازم کووینٹی لیٹر تک پہنچا دیا
اشتیاق میر کے پاس ہائی کورٹ کا حکم نامہ موجود تھا جس میں انہیں مستقل کرنے کا آرڈر دیا گیا تھا، تاہم محکمہ کی جانب سے تاخیری حربوں کے باعث اس آرڈر کی میعاد ختم ہو گئی، جو اشتیاق میر کے لیے شدید ذہنی صدمے اور جان لیوا برین ہیمرج کا سبب بنی۔
واقعے کے بعد محکمہ برقیات کے ملازمین میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ سوگوار ملازمین نے حکومت اور محکمہ کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جب تک اشتیاق میر کے چھوٹے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ نہیں ہوتا اور انہیں ان کا حق نہیں ملتا، وہ میت کی تدفین نہیں کریں گے اور احتجاج جاری رکھیں گے۔
مزید پڑھیں: مظفرآباد، مشتعل افراد کا برقیات ملازمین پرحملہ،یرغمال بنا لیا




