چمن اور شمالی بلوچستان میں شدید برفباری سے سڑکیں بند، سیاح پھنس گئے

چمن اور شمالی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسم سرما کی پہلی شدید برفباری کے باعث نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہو گیا ہے۔ برفباری کے نتیجے میں چمن سمیت متعدد علاقوں میں تمام شاہراہیں بند ہو گئی ہیں جبکہ سینکڑوں سیاح مختلف مقامات پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔ سڑکوں کی بندش کے باعث آمدورفت معطل ہے اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق چمن، خوجک ٹاپ، خواجہ عمران، توبہ اچکزئی، قلعہ عبداللہ، گلستان، جنگل پیر علی زئی، شیلا باغ اور میزئی اڈہ برفباری کی لپیٹ میں ہیں۔ ان علاقوں میں مسلسل برف پڑنے کے باعث نہ صرف سڑکیں بند ہوئیں بلکہ سردی کی شدت میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ خوجک ٹاپ اور خواجہ عمران میں درجہ حرارت منفی 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا، جبکہ توبہ اچکزئی میں درجہ حرارت منفی 4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ توبہ اچکزئی میں برف کی موٹائی ایک سے ڈیڑھ فٹ تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث علاقے میں معمولاتِ زندگی مفلوج ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر اورخیبرپختونخوا میں بارش و برفباری کی پیشگوئی، فلیش فلڈ کا خدشہ

نوشکی اور قلات میں بھی موسم سرما کی پہلی برفباری نے سفید چادر تان لی ہے۔ ان دونوں علاقوں میں برفباری کے بعد درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نوشکی اور قلات میں بجلی کی بندش نے مقامی آبادی کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ شہریوں کو روزمرہ امور کی انجام دہی میں شدید دقت کا سامنا ہے۔

قلات شہر اور اس کے گردونواح میں گزشتہ رات سے مسلسل اور شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ برف نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث سرد موسم مزید سخت ہو گیا ہے۔ آٹھ سال بعد ہونے والی اس برفباری نے ایک جانب پہاڑوں کو دلکش اور خوبصورت منظر میں تبدیل کر دیا ہے تو دوسری جانب عوامی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزادکشمر میں بارش و برفباری، این ڈی ایم اے نے اہم الرٹ جاری کردیا

سیاحتی مقامات پر موجود افراد سڑکوں کی بندش اور موسمی شدت کے باعث پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ مقامی افراد بھی خوراک، بجلی اور آمدورفت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے، کیونکہ برفباری کے باعث حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

Scroll to Top