سلطنت عثمانیہ کا وہ آخری چشم وچراغ جس کا تابوت ضبط کرلیا گیا تھا

عالمی خبر رساں ادارے بی بی سی کی رپورت میں انکشاف کیا گیا کہ سلطنت عثمانیہ کے آخری چشم وچراغ سلطان محمد ششم وحید الدین وہ آخری فرد تھے جو سلطنت عثمانیہ کے سلطان کی مسند پر براجمان ہوئے۔

سلطان محمد ششم وحید الرین کو سنہ 1922 میں زبردستی اس عہدے سے ہٹاکر ملک بدر کردیا گیا تھا ۔

محمد ششم سلطنت عثمانیہ کا وہ آخری چشم وچراغ،جو نہ صرف دیوالیہ ہو چکے تھے بلکہ بھاری قرضوں میں بھی ڈوبے ہوئے تھے۔ حکام نے تدفین کے اخراجات ادا نہ ہونے پر ان کا تابوت ضبط کر لیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:اسراء فائونڈیشن کی سالانہ ایمرجنسی کارکردگی رپورٹ جاری

سلطان محمد ششم وحید الدین کی جلاوطنی کے بعد ایک برس سے بھی کم عرصے میں مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں ترک جمہوریہ نے جنم لیا۔

سلطان محمد ششم 14 جنوری 1861 میں پیدا ہوئے تھے اور سلطنت عثمانیہ کے آخری سلطان تھے۔ وہ 16 مئی 1926 میں اٹلی کے شہر سان ریمو میں وفات پاگئے۔

سلطان محمد ششم نے ایسے تاریخی وقت پر تخت سنبھالا جب صورتحال نہایت پیچیدہ تھی اور سلطنتِ عثمانیہ فوجی شکستوں، بڑھتی ہوئی غیر ملکی مداخلتیں اور عثمانی معاشرے میں تیز گہرے فکری و سیاسی تغیرات کے سبب اپنے زوال کے آخری مراحل سے گزر رہی تھی۔

اسی دور میں سلطان کے مرتبے پر فائز ہونے کی وجہ سے ان کا نام سلطنت عثمانیہ کے اختتام اور خلافت کے خاتمے کے ساتھ جڑ گیا اور وہ صدیوں پر محیط ایک تاریخی عہد کے اختتام کے گواہ بنے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:

سلطان محمد ششم کی ابتدائی زندگی اور تخت تک کا سفر

سلطان عبدالمجید کے بیٹے محمد ششم سلطنتِ عثمانیہ کے اس وقت کے دارالحکومت استنبول میں واقع دولما باغچے محل میں پیدا ہوئے تھے۔

ان کی ایک ایسے دور میں پرورش ہوئی جب سلطنت عثمانیہ اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کا بڑا حصہ کھو چکی تھی۔

ان کے والدین اس وقت وفات پا گئے جب وہ محض چار برس کے تھے اور پھر ان کی سوتیلی والدہ شیستہ خانم نے ان کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری سنبھالی۔

سنہ 1918 میں تین جولائی کو سلطان محمد پنجم رشاد 73 برس کی عمر میں وفات پا گئے اور ان کی جگہ محمد ششم نے تخت سنبھالا۔
اس وقت سلطنت انتہائی زبوں حالی کا شکار تھی، برطانوی افواج اور شریف حسین کی افواج میسوپوٹیمیا، حجاز اور بیشتر شام پر قبضہ کر چکی تھیں اور پرانی ریاست مکمل انہدام کے دہانے پر پہنچ چکی تھی۔

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق محمد ششم ذہین اور بصیرت رکھنے والے شخص تھے۔ انھوں نے 4 جولائی 1918 کو تخت سنبھالا اور ابتدا ہی سے اپنے بڑے بھائی عبدالحمید ثانی کی روش پر چلتے ہوئے حکومتی امور پر ذاتی اختیار قائم رکھنے کی کوشش کی۔

تاہم سلطان محمد پنجم رشاد کا جانشین بنتی ہی ان کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہوگیا تھا۔ 30 اکتوبر 1918 کو تخت سنبھالنے کے صرف چار ماہ بعد سلطنتِ عثمانیہ نے پہلی عالمی جنگ میں شکست تسلیم کرتے ہوئے معاہدۂ مدروس پر دستخط کیے۔

اسی سال نومبر میں اتحادی افواج نے استنبول میں فوجی انتظامیہ قائم کی اور شہر کو برطانوی، فرانسیسی اور اطالوی حصوں میں تقسیم کر دیا۔

آٹھ دسمبر 1918 کو موجودہ حکومت ختم ہو گئی، گرینڈ وزیر (صدرِ اعظم) نے استعفیٰ دے دیا اور سلطنت کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ’کمیٹی آف یونین اینڈ پروگریس‘ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔

جماعت کے رہنما ملک کو جنگ میں دھکیلنے کے الزام سے بچنے کے لیے بیرونِ ملک فرار ہو گئے۔

سلطان محمد ششم، جو قوم پرستانہ نظریات کے مخالف اور عثمانی خاندان کے تسلسل کے حامی تھے، اتحادی دباؤ کے تحت 21 دسمبر 1918 کو پارلیمنٹ تحلیل کرنے پر مجبور ہوئے اور قوم پرست تحریک کو کچلنے کا عزم ظاہر کیا۔

لیکن اناطولیہ میں مصطفیٰ کمال کی قیادت میں منظم ہونے والے قوم پرست ملکی سالمیت اور آزادی کی جدوجہد کے لیے سلطان کی حمایت چاہتے تھے۔

مذاکرات کے بعد سلطان نے نئے پارلیمانی انتخابات پر رضامندی ظاہر کی، جو 1919 کے آخر میں ہوئے اور نئی پارلیمنٹ میں قوم پرستوں کی اکثریت سامنے آئی۔

تاہم اتحادی طاقتیں ترک قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے اثر اور ترکی کی ممکنہ وحدت سے خوفزدہ ہو کر استنبول میں اپنا قبضہ مزید بڑھانے لگیں اور قوم پرست اراکینِ پارلیمنٹ کی گرفتاریاں اور جلاوطنی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

گیارہ اپریل 1920 کو سلطان نے ایک بار پھر پارلیمنٹ تحلیل کر دی۔ اس کے جواب میں انقرہ کے قوم پرستوں نے نئے انتخابات کا اعلان کیا

،جس کے نتیجے میں 23 اپریل 1920 کو ’گرینڈ نیشنل اسمبلی آف ترکی‘ تشکیل پائی اور مصطفیٰ کمال اس کے صدر منتخب ہوئے۔اس اسمبلی نے اپنی حکومت قائم کر لی

ان انتخابات کے بعد ملک میں دو متوازی حکومتیں وجود میں آئیں، ایک استنبول میں سلطان کے زیرِ قیادت اور دوسری انقرہ میں مصطفیٰ کمال کی قیادت میں۔

دس اگست 1920 کو سلطان محمد ششم نے فرانس میں طے پانے والے معاہدہ سیوریس کی توثیق کر دی کیونکہ انھیں خوف تھا کہ انکار کی صورت میں اتحادی ممالک دوبارہ جنگ چھیڑ سکتے ہیں، جس کا نتیجہ عثمانی فوج کی مکمل شکست اور شاید استنبول کے نقصان کی صورت میں نکل سکتا تھا۔

اس توثیق نے قوم پرست تحریک کو مزید طاقت بخشی کیونکہ معاہدہ سیوریس کو عثمانی ریاست کے لیے نہایت ذلت آمیز سمجھا گیا

جس کے سبب اس کے عرب صوبے چھین لئے گئے، فوج کی تحلیل کا حکم آیا اور اناطولیہ کو مختلف اثر و رسوخ کے علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

انقرہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا اور ترک جنگِ آزادی کا آغاز کر دیا۔

یوں ترک قوم پرستوں اور سلطان محمد ششم کے درمیان اختلاف اتنا گہرا ہو گیا کہ استنبول کی ایک فوجی عدالت نے مصطفیٰ کمال کو غیر حاضری میں سزائے موت سنا دی۔

Scroll to Top