ایران کا گھیرا تنگ،امریکی جنگی طیارے قطر پہنچ گئے،ایئر بیس پر سرگرمیاں تیز

دوحہ (کشمیر ڈیجیٹل) ایران پر حملے کی دھمکیوں کے بعد مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکی فورسز نے قطر کے العدید ایئر بیس پر سرگرمیاں تیز کردیں،۔ امریکی جنگی طیارے قطر پہنچ گئے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اتوار کی رات قطر کے العديد بیس سے کئی امریکی جنگی طیاروں نے پروازیں کیں۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ کے سی 135 ایئر ریفیولنگ ٹینکر اور بی 52 اسٹریٹیجک بمبار طیاروں نے پروازیں کیں۔

خبر ایجنسی کے مطابق قطر کا العدید ایئربیس ایرانی سرحد سے 200 سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ دوسری جانب امریکا نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کردی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ہم آرہے ہیں،ملکی اداروں کا کنٹرول سنبھال لو؛ ٹرمپ کا ایرانی مظاہرین کو پیغام

ایران میں امریکا کے ورچوئل سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ہونے والے احتجاج شدت اختیار کر رہے ہیں ۔

سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ممکن ہو تو زمینی راستے سے آرمینیا یا ترکیہ کے ذریعے ایران چھوڑ دیں اور ایسے انتظامات کریں جن میں امریکی حکومت کی مدد پر انحصار نہ ہو۔

مزید یہ بھی پڑھیں:دشمن کیخلاف نفسیاتی جنگ میں سچائی پر مبنی بیانیہ فیصلہ کن ہتھیار،ترجمان پاک فوج

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) اور علاقائی شراکت داروں نے قطر کے العدید ائیر بیس میں ایک نیا کوآرڈی نیشن سیل قائم کیا ہے جس کا مقصد فضائی اور میزائل دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔

نیا مڈل ایسٹ ائیر ڈیفنس-کمبائنڈ ڈیفنس آپریشنز سیل (MEAD‑CDOC) کمبائینڈ ائیر آپریشنز سینٹر (CAOC) میں واقع ہے اور اس میں امریکا اور علاقائی شراکت داروں کے اہلکار شامل ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:افغانستان کےمحمد نبی اور بیٹے حسن عیسیٰ خیل نے کرکٹ میں تاریخ رقم کی

سینٹ کام کے بیان میں کہا گیا کہ قطر میں قائم کمبائنڈ ائیر آپریشنز سینٹر 20 سال قبل قائم کیا گیا تھا اور اس وقت یہ 17 ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔

اس سینٹر کے اندر بننے والا نیا سیل علاقائی ممالک کے درمیان فضائی اور میزائل دفاع کے لیے تعاون کو مزید بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

یہ سیل معلومات کے تبادلے اور خطرات سے متعلق وارننگز جاری کرنے کی ذمہ داری بھی ادا کرے گا۔