مہاجرین کشمیر کا اپنا مقدمہ صدر، وزیراعظم پاکستان،فیلڈ مارشل کے سامنے رکھنے کا اعلان

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)مہاجرین کشمیر 1989 نے اپنا مقدمہ صدر مملکت ، وزیراعظم ، فیلڈ مارشل اور پاکستانی عوام کے سامنے اٹھانے کااعلان کردیا ۔

بیس کیمپ حکومت ، سیاسی مذہبی جماعتیں مہاجرین جموں کشمیر 89 کے متعلق اپنا مؤقف واضح کریں ۔

ورکنگ کمیٹی یکم فروری کو سینٹرل پریس کلب میں مہاجرین کو درپیش مسائل پر تفصیلی رپورٹ پیش کرکے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی ۔ اجلاس میں فیصلہ

تفصیلات کے مطابق آج دارالحکومت میں مہاجرین ورکنگ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا ، اجلاس میں کیمپس ہا کے صدور ، منتخب کونسلرز ، ایڈوائزرز ، کمیٹی کے ممبران اور دیگر نمائندگان نے شرکت کی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عوامی ایکشن کمیٹی کا طرز عمل ریاستی نظام کمزور کرنے کی سازش، شوکت علی شاہ

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آزاد جموں کشمیر میں موجود مہاجرین 1989 کے قریب دس ہزار خاندانوں چھیالیس ہزار افراد کے نمائندگان یکم فروری کو سینٹرل پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس کریں گے۔ جس میں مہاجرین کشمیر کو درپیش مسائل ، مشکلات اور تکالیف کو صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان آصف علی زرداری ، وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف ، فیلڈ مارشل پاکستان جنرل عاصم منیر اور پاکستان کے پچیس کروڑ عوام کے سامنے لایا جائے گا ۔

مہاجرین کشمیر کے تئیں بیس کیمپ حکومتوں کے استحصالی روئیے ، نظر انداز کیئے جانے کی مسلسل دانستہ کوششوں کو آشکار کیا جائے گا ۔ کہ مہاجرین کشمیر کے ساتھ کس کس طرح سے زیادتیوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے ۔ چھتیس برسوں کی ہجرت رہنے کو زمین کا ٹکڑا اور گھر نہیں ، دو وقت کی روٹی پوری کرنا ناممکن ، تعلیم چھین لی گئی ، چھ فیصد کوٹہ ختم کر کے ملازمتوں کے دروازے بند کر دیئے گئے ۔ مہاجرین کو بستیوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح اور تین ہزار مہاجر خاندانوں کو کرائے کے مکانات میں گھٹ گھٹ کر زندگی جینے پر مجبور رکھا گیا ہے نہ بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں نہ ہی شہری ، سیاسی اور سماجی حق تک رسائی ہے۔

تحریک آزادی کشمیر کے نام پر قائم شدہ بیس کیمپ کی حکومتیں چھیالیس ہزار ایسے افراد جنہوں نے تحریک کیلئے ہجرت کی ، پیارے قربان کیئے ، خود بھارت کیخلاف مزاحمت میں شریک رہے ، جن کی زمینوں کو مودی ظالم قبضے میں لے رہا ہے ، جائیدادیں ضبط اور مکان مسمار کیئے جارہے ہیں لیکن بیس کیمپ کے حکمران ان غازیوں ، شہداء کے خاندانوں کیساتھ بدترین سلوک کرنے میں زرہ بھر شرم محسوس نہیں کرتے ۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مہاجرین ریاست جموں کشمیر کے درجہ اؤل کے شہری ہیں اس ریاست کے اقتدار ، اختیار اور وسائل پر جتنا کسی اور کا حق ہے اتنا ہی مہاجرین جموں کشمیر کا بھی ہے ۔ حکومت کی جانب سے کسی بھی امتیازی سلوک کو برداشت نہیں کیا جائے گا بلکہ شہری ہونے کی حیثیت سے اپنے ہر حق کو حاصل کرنے کیلئے جمہوری ، آئینی اور قانونی راستے اختیار کیئے جائیں گے۔

اجلاس میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ بیس کیمپ حکومت کا سالانہ تین کھرب دس ارب روپے کا بجٹ ہے تحریک آزادی کشمیر کے دعویدار حکومتیں مہاجرین کشمیر کی حالت زرہ بھر بدلنے میں مکمل ناکام ثابت ہو رہی ہیں ۔

اجلاس میں اس بات پر افسوس اور دکھ کا اظہار کیا گیا کہ متحدہ جہاد کونسل اور مجاز اتھارٹیز کی جانب سے 31 دسمبر 2025 کا وہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا جس میں دونوں معزز فورمز وعدہ بند تھے کہ ماہانہ گزارہ الاؤنس میں اضافہ کیا جائے گا ۔ ورکنگ کمیٹی نے ہر مرتبہ یہ کوشش کی کہ مسائل کا حل وعدوں کے مطابق نکلے ۔ لیکن بدقسمتی سے مہاجرین کشمیر کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے لیت و لعل سے کام لیا گیا ہے ۔

اِجلاس میں متحدہ جہاد کونسل کی جانب سے مہاجرین کشمیر کی مشکلات کے حل کیلئے کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا وہیں کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلام آباد میں اپنی موجودگی کو جہاں تحریک آزادی کشمیر کے لیئے وقف کیئے ہوئے ہیں وہیں وہ تحریک آزادی کشمیر سے براہ راست متاثرہ مہاجرین کشمیر 1989 کے مسائل حل کرنے کے لیئے اپنی آئینی زمہ داریاں پوری کریں ۔

اجلاس میں تحریکی کارکن محمد فاروق شیخ مرحوم ، نائب امیر ورکنگ کمیٹی محمد لطیف لون کے والدِ محترم خواجہ غلام محمد لون کی مقبوضہ کشمیر میں وفات سمیت شہدائے کشمیر ، شہدائے فلسطین اور شہدائے پاک افواج کی بلندی درجات کیلئے دعاء کی گئی ۔

اجلاس میں سرپرست اعلیٰ ورکنگ کمیٹی چوہدری فیروز الدین کی مکمل جلد صحت یابی کیلئے لیئے بھی اللہ تعالیٰ کے حضور التجاء ہوئی ۔

اجلاس میں عزیر احمد غزالی ، راجہ محمد عارف خان ، گوہر احمد کشمیری ، چوہدری محمد مشتاق ، سید حامد جمیل کشمیری ، سر انداز میر ، حاجی رنگیل بٹ ، خواجہ غلام لاثانی ، محمد اقبال میر ، اقبال یاسین اعوان ، منظور اقبال بٹ ، محمد یونس میر ، خواجہ محمد اقبال ، قاری بلال احمد فاروقی ، عثمان علی ہاشم ، نعیم سجاد ، محمد سجاد بٹ ، راجہ امتیاز خان ، علی مہدی ڈار ، فیاض احمد جگوال ، محمد اسلم انقلابی ، قاضی محمد افتخار ، راجہ عبدالرشید ، راجہ سجید خان ، محمد اسماعیل جگوال ، محمد جعفر بیگ ، سید عبد الرحیم شاہ ، مختیار حسین بھٹی ، ریاض احمد خان ، چوہدری محمد جمال ، جاوید احمد قریشی ، غلام مرتضیٰ مغل ، عبدالغفور راتھر ، محمد فیاض خان ، اشتیاق اعوان ، تنویر احمد درانی ، محمد اسحاق گورسی ، سردار خورشید احمد ، چوہدری عبدالشکور ، وسیم کیانی ، ولی الرحمن ، چوہدری نظیر احمد ، عبدالرشید ڈار ، سید خالد حسین شاہ ، سید غلام یحییٰ ، راجہ امیر خان ، عبدالشکور خان سمیت دیگر نمائندگان نے شرکت کی ۔۔۔۔۔۔

Scroll to Top