صدر مسلم لیگ ن شاہ غلام قادر نے کہا ہے کہ ایکشن کمیٹی کا کام ہے ایکشن کرنا اور اگر کمیٹی اپنے ایکشن پر آگئی ہے تو وہ دلیل کے ساتھ اسے کرے، دلیل ابھی کمزور ہے۔
شاہ غلام قادر نے بتایا کہ ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات تھے جن میں سے 36 مطالبات تقریباً تکمیل پاچکے ہیں، تاہم دو مطالبات ایسے ہیں جن پر کمیٹی کو مزید بیٹھ کر غور کرنا ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ حکومتی کمیٹی ان کے منتخب کردہ افراد پر مشتمل ہو۔ ہمارے ایک وکیل نے تو ودڈرا کر دیا، ایکشن کمیٹی کے وکیل پر بھی اعتراضات ہیں اب دیکھتے ہیں ان میں کتنی غیرت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ غلام قادرنے آزادکشمیر حکومت پر انتقامی کارروائیوں کا الزام لگا دیا
شاہ غلام قادر نے مزید کہا کہ مہاجرین کی سیٹیں ختم کرنے کے لیے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ ان کو چاہیے کہ الیکشن میں حصہ لیں اور ان کے پاس اکثریت حاصل ہو تو یہ اقدام عملی طور پر ممکن ہے۔ یہ بہت بڑا جھوٹ ہے کہ فنڈز ایم ایل ایز کو پاکستان جاتے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ 5 سال کا ریکارڈ نکالے اور بتائے کہ کس ایم ایل اے کو کتنے فنڈز گئے پاکستان میں، کس صورت میں فنڈز جائیں گے، نہ صحت کے لیے جا سکتے، نہ سڑکیں بنانے کے لیے اور نہ تعلیم کے لیے دیےجا سکتے ہیں۔ یہ بات ذہن میں رکھنا چاہیے کہ آزاد کشمیر ڈیویلپمنٹ فنڈسارا کا سارا گرانٹ کی صورت میں حکومت پاکستان آزاد کشمیر کو دیتی ہے، اسی لیے جب آپ بہت زیادہ کریدیں گے تو زخم اپنے ہی جسم پر لگیں گے۔
ایکشن کمیٹی کا کام ہے ایکشن کرنا وہ اپنے ایکشن پر آگئی ہے تو ایکشن کرے مگر دلیل کے ساتھ،کیونکہ ان کی دلیل کمزور ہے۔۔۔صدر مسلم لیگ ن شاہ غلام قادر pic.twitter.com/3SPAov94Ov
— Kashmir Digital (@KashmirDigital1) January 5, 2026




