ملک کے کم آمدنی والے شہری بڑھتی مہنگائی کے باعث روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور حکومت کی جانب سے فوری ریلیف کے منتظر ہیں ۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے ان کے گھریلو بجٹ پر براہِ راست اثر ڈال دیا ہے اور بنیادی ضروریات کی خریداری مشکل ہو گئی ہے ۔
یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش کے بعد عام لوگوں کی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ، کیونکہ اب وہ سستی بنیادی اشیاء تک بھی آسانی سے رسائی حاصل نہیں کر پا رہے ۔
شہریوں کے مطابق ملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش سے مہنگائی کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل ہو گیا ہے ۔
مزید یہ پڑھیں:سال 2026: ہونڈا CG 125 کی نئی قیمت اور فیچرز سامنے آ گئے
اوپن مارکیٹ میں ضروری اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ خوردنی تیل اور گھی کی قیمتیں 590 سے بڑھ کر 600 روپے فی کلو ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے عام شہریوں کے لیے یہ اشیاء خریدنا مشکل ہو گیا ہے ۔
اسی طرح پرائیویٹ کمپنیوں کے معیاری آٹے کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ایک کلو آٹا اب 160 روپے تک فروخت ہو رہا ہے ۔
چائے کی پتی کے 800 گرام پیک کی قیمت 1760 روپے سے بڑھ کر 1900 روپے ہو گئی ہے جبکہ چاول کی قیمتیں بھی عام صارف کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں ۔
ان بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کم آمدنی والے طبقے کے گھریلو اخراجات میں اضافہ کر دیا ہے اور روزمرہ ضروریات کی خریداری کو مشکل بنا دیا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:2026 میں سمارٹ فونز اور الیکٹرانک ڈیوائسز مہنگی ہونے کا امکان
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ سستی بنیادی اشیاء کی فراہمی کو ممکن ہو سکے تاکہ عوام کو مہنگائی سے ریلیف مل سکے ۔




