نیویارک: نیویارک کے نئے میئر ظہران ممدانی نے دفتر سنبھالنے کے پہلے ہی روز سابق میئر کے تمام فیصلے منسوخ کر دیے۔ ظہران ممدانی نے سابق میئر ایریک ایڈمز کے وہ تمام فیصلے کالعدم قرار دیے جو 26 ستمبر 2024 کے بعد کیے گئے تھے، جس روز ایرک ایڈمز پر رشوت اور فراڈ کے الزامات میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
منسوخ کیے جانے والے فیصلوں میں خاص طور پر نیویارک شہر کے لیے یہود دشمنی کی وضاحت بھی شامل ہے جو ہولوکاسٹ یادگار اتحاد نے منظور کی تھی۔
گزشتہ روز، میئر ظہران ممدانی نے شہریوں سے ملاقاتیں بھی کیں اور شہر کے 142 شہریوں سے ان کی پریشانیاں اور تجاویز سنی۔ اسی دوران، ایک پاکستانی خاتون ثمینہ سے ملاقات کے دوران ظہران ممدانی آبدیدہ ہوگئے۔ خاتون نے انہیں مبارک باد دی اور کہا کہ “ایک ایسی دنیا میں جہاں لوگ متحد نہیں ہیں، آپ لوگوں میں نرم دلی پیدا کر رہے ہیں۔”
ثمینہ نے بتایا کہ ان کی انگریزی اچھی نہیں ہے، اس لیے وہ کچھ لکھ کر لائیں ہیں، اور انہوں نے ظہران ممدانی سے پوچھا کہ آیا وہ اردو بول سکتے ہیں۔ ظہران ممدانی نے جواب دیا کہ وہ اردو بول سکتے ہیں، اگرچہ پڑھ نہیں سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: میئرنیویارک ظہران ممدانی پاکستانی خاتون کی بات سن کر آبدیدہ ہو گئے
خاتون نے ظہران ممدانی سے کہا کہ ان کا تعلق لاہور سے ہے، جس پر میئر نے کہا کہ “لاہور بہت خوبصورت شہر ہے، میں بھی ایک مرتبہ وہاں جا چکا ہوں۔” پھر انہوں نے نیویارک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی عمارتیں خوبصورت ہیں، لیکن آپ نے آ کر لوگوں کے دل بدل دیے ہیں اور آپ کی آنکھوں میں جو سچائی ہے وہ کسی سے چھپ نہیں سکتی۔
خیال رہے کہ ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان میئر اور ایک صدی میں سب سے کم عمر میئر ہیں۔ انہوں نے پچھلے روز سٹی ہال میں حلف اٹھایا، اور اپنے دادا، دادی کے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر عہدے کا حلف لیا۔ حلف برداری کے موقع پر میئر نے کہا: “آج سے نئے عہد کا آغاز ہوگیا، اگر آپ نیویارک کے شہری ہیں تو میں بلاتفریق آپ کا میئر ہوں۔”




