پاپڑ، نمکو، کیک یا ڈونٹ؟ جانیں سنیکس صحت پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں

دنیا بھر میں بھنی ہوئی مونگ پھلی، چپس، مٹھائیاں، چاکلیٹ، پاپڑ، نمکو، کوکیز، ڈونٹس اور کیک جیسی سنیکس کی بے شمار اقسام موجود ہیں۔ کیمبرج انگلش ڈکشنری کے مطابق سنیکس وہ چھوٹے کھانے ہیں جو بڑے کھانے کے درمیان ہلکی بھوک مٹانے کے لیے کھائے جاتے ہیں۔

انسان ہر دور میں سنیکس کا لطف اٹھاتا رہا ہے، لیکن جدید دور میں یہ ایک بڑی صنعت بن چکی ہے جس کی سالانہ مالیت ایک ٹریلین ڈالر سے زائد ہے۔ اب بہت سے لوگ اپنی کیلوریز کا بڑا حصہ سنیکس کے ذریعے حاصل کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ دن میں دو یا تین باقاعدہ کھانے کھائیں۔

سنیکس کی مقبولیت میں ہماری روزمرہ زندگی کی مصروفیت اور وقت کی کمی اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن خوراک بنانے والی کمپنیوں کی سمارٹ مارکیٹنگ نے بھی اس میں بڑا حصہ ڈالا ہے۔ یہ کمپنیاں سنیکس کو ضروری اور دلکش بنا کر ہماری روزمرہ خوراک کا حصہ بنا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد: وزیر صحت آزاد کشمیر کا سی ایم ایچ ایمرجنسی وارڈ کا اچانک دورہ

برطانوی فوڈ ہسٹورین اور مصنفہ ڈاکٹر اینی گرے کہتی ہیں کہ سنیکس کو عموماً منفی انداز میں دیکھا جاتا ہے، حالانکہ لازمی نہیں کہ یہ جنک فوڈ ہوں یا غذائی لحاظ سے کمزور ہوں۔ ڈاکٹر گرے کے مطابق سنیکس عام طور پر وہ چیزیں ہیں جو آسانی سے کھائی جا سکتی ہیں اور بڑے کھانے کے درمیان ہلکی بھوک مٹانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ تاہم، ان کے ساتھ اکثر ایک نوعیت کا احساسِ جرم بھی جڑا ہوتا ہے۔

صحت پر اثرات:

  • ہاضمہ اور معدے پر اثر: زیادہ نمکین یا تلی ہوئی سنیکس معدے میں بھاری ہوتی ہیں اور گیس، اپھارہ یا تیزابیت بڑھا سکتی ہیں۔
  • وزن اور موٹاپا: کیلوریز اور چینی کی زیادہ مقدار وزن بڑھانے اور موٹاپے کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
  • دل اور بلڈ پریشر: نمک کی زیادتی بلڈ پریشر بڑھا سکتی ہے، جبکہ زیادہ چینی ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے امکانات بڑھا سکتی ہے۔
  • دانتوں کی صحت: میٹھی اور چکنی سنیکس دانتوں میں کیویٹی پیدا کر سکتی ہیں۔
  • توانائی اور مزاج: فوری توانائی دینے کے باوجود اثر عارضی ہوتا ہے، اور تھکن یا چڑچڑاپن بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ سنیکس کبھی کبھار چھوٹی مقدار میں استعمال کیے جائیں، پانی زیادہ پیا جائے، اور زیادہ تر تازہ پھل یا خشک میوہ جات کو ترجیح دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:سٹ ٹو اسٹینڈ ٹیسٹ: 30 سیکنڈ میں اپنی صحت اور عمر کا اندازہ لگائیں

Scroll to Top