ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں طالبعلم رہنما عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعدصورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے اور ڈھاکہ میں عوامی لیگ کا دفتر بھی مسمار کردیا گیاہے، مشتعل مظاہرین نے دوسابق وزراء کے گھر نذر آتش کرنے کے علاوہ بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمشنر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بولا ہے۔
بنگلہ دیش کے اخباردی بزنس سٹینڈرڈ کے مطابق ڈھاکہ کے علاقے راجشاہی میٹروپولیٹن میں عوامی لیگ کے دفتر کو بلڈوزر سے مسمار کر دیا گیا ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ مظاہرین نے1:30 بجے کے قریب کمارپارا علاقے میں واقع پارٹی دفتر پر بلڈوزر لے کر آیا اور ڈھانچے کو توڑنا شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: عثمان ہادی کا قتل، بنگلہ دیش میں بھارت مخالف مظاہرے،مودی نواز 2اخباروں کے دفاتر نذر آتش
اخبار کے مطابق راجشاہی یونیورسٹی کیمپس میں بڑا احتجاجی مارچ ہوا ہے جس میں راجشاہی یونیورسٹی سنٹرل اسٹوڈنٹس یونین (رکسو)، اسلامی چھاترا شبیر، اور عام طلبہ کے رہنماؤں اور اراکین شامل تھے۔
طلبہ نے بے دخل فاشسٹ حکومت اور بھارتی مداخلت کے خلاف نعرے لگائے۔
مظاہرین نے بھارت پر بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے اور عوامی لیگ کی زوال پذیر حکومت کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے راجشاہی میں بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمیشن کو فوری طور پر ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا۔

زیرو پوائنٹ پر ہونے والے جلسے کے دوران اسلامی چھاترہ شبیر کے صدر مستقر الرحمن زاہد نے دی ڈیلی سٹار اور بنگلہ روزنامہ پرتھم الو کوقومی مفادات کے خلاف کام کرنے والے “لبرل” آؤٹ لیٹس کا نام دیتے ہوئے انہیں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
زاہد نے ان دونوں میڈیا اداروں کے صحافیوں کو مزید ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر احتجاج کی جگہ چھوڑ دیں۔ ان اخبارات کو بند کر دینا چاہیے۔
ادھر چٹاگانگ کے پہاڑی علاقوں کے امور کے سابق وزیر بیر بہادر یو شوے سنگ کے گھرکو جلا دیا گیا جس میں 3گاڑیاں اور عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
دوسری طرف اترا میں عوامی لیگ کے سابق رکن پارلیمنٹ حبیب حسن کے بھائی کے گھر پر بھی آگ لگنے کی اطلاع ملی ہے اطلاع کے بعد فائر فائٹنگ یونٹ کو جائے وقوعہ پر روانہ کر دیا گیا لیکن یہ گھر بھی مظاہرین نے جلا دیا ہے۔
ادھر چٹوگرام میں مظاہرین بھارت کے اسسٹنٹ ہائی کمشنر کی رہائش گاہ پر حملہ کیا ہے اور اینٹیں برسائی ہیں جس پر پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی ہے۔
کشیدگی بڑھنے پر بنگلہ دیشی فوج کے ارکان کو بھی جائے وقوعہ پر تعینات کر دیا گیاہے۔

چٹوگرام میٹروپولیٹن پولیس (سی ایم پی) کمشنر حسیب عزیز نے کہا کہ ایم ای ایس کالج کے قریب بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمشنر کی رہائش گاہ اور دفتر کے سامنے پتھرائو سے سی ایم پی کے اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں، جن میں سے ایک کی ٹانگ پر چوٹ لگی۔
اخبار کے مطابق جمعرات کی رات دیر گئے ڈھاکہ اور متعدد اضلاع میں وسیع پیمانے پر مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔
قبل ازیں دو اخباروں کے دفاتربھی نذر آتش کئے گئے تھے، باقی بھی کئی شہروں میں پرتشدد احتجاج کی اطلاعات ہیں۔




