ایبٹ آباد میں ڈاکٹر وردہ قتل کیس سے متعلق ایک اور اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جہاں کیس کا مرکزی ملزم شمریز فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق شمریز اپنے ہی دو ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔ اس واقعے کی تفصیلات ڈی پی او ایبٹ آباد ہارون رشید نے باقاعدہ پریس کانفرنس کے دوران بیان کیں۔
ڈی پی او ہارون رشید کے مطابق پولیس ڈاکٹر وردہ قتل کیس کے مرکزی ملزم شمریز کی گرفتاری کے لیے مسلسل چھاپے مار رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم شمریز کافی عرصے سے روپوش تھا اور پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس کا موبائل ڈیٹا ٹریس کیا، جس کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ڈی پی او کے مطابق ٹھنڈیانی روڈ میرا رحمت خان کنڈا کے مقام پر پولیس اور ملزم کے درمیان مقابلے کی صورتحال بنی، تاہم اسی دوران شمریز اپنے دو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔
پریس کانفرنس میں ڈی پی او ایبٹ آباد نے واضح کیا کہ اس واقعے میں ملزم کے دونوں ساتھی موقع سے فرار ہو گئے، جن کی گرفتاری کے لیے پولیس کی جانب سے چھاپے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر وردہ قتل کیس کے تمام نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ ڈی پی او نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کیس میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر وردہ قتل کیس: مرکزی ملزمہ کے 17 بینک اکاؤنٹس منظر عام پر
ہارون رشید نے مزید بتایا کہ اس کیس میں دیگر ملزمان ریدا جدون، ندیم پرویز اور وحید کو بھی سزا دلوائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر وردہ کی گمشدگی کا مقدمہ 4 دسمبر کو درج کیا گیا تھا جبکہ چار دن بعد ڈاکٹر وردہ کی لاش برآمد ہوئی۔ پولیس نے تحقیقات کے دوران چار ملزمان کو گرفتار کیا، جس کے بعد کیس میں مزید پیش رفت سامنے آئی۔
یہ بھی پڑھیں:ڈاکٹر وردا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آگئے
ڈی پی او کے مطابق ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں اس وقت اہم موڑ آیا جب انہیں جے آئی ٹی سے ہٹا کر سونیا شمروز کو شامل کیا گیا۔ جے آئی ٹی کی سربراہی چیئرمین صوبائی انسپکشن ٹیم خیام حسن کر رہے ہیں۔ ٹیم نے گزشتہ روز 30 سے زائد افراد کے بیانات قلم بند کیے، جن میں ڈاکٹر وردہ کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکار اور افسران بھی شامل ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔




