مظفر آباد( کشمیر ڈیجیٹل) سابق چیف جسٹس آزادکشمیر جسٹس (ر) منظور الحسن گیلانی نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور ہائیکورٹ وسپریم کورٹ کے ججز کی تقرری وزیراعظم پاکستان کا اختیار ہے، مجھے نہیں لگتا کہ آزادکشمیر حکومت یہ اختیارآئینی ترمیم سے اپنے پاس لینے کی کوشش کریگی۔
کشمیر ڈیجیٹل کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں جسٹس (ر) منظور الحسن گیلانی نے کہا کہ آزادکشمیر حکومت کی کیا آ ئینی حیثیت ہے کہ وہ حکومت پاکستان سے یہ اختیار لینے کی کوشش کریگی، ایسا لگ نہیں رہا کہ حکومت اختیارات لینے کی کوشش کریگی۔
انہوں نے کہا کہ آئین وقانون میں ترامیم ہوتی رہتی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، یہ اصلاح کیلئے ہوتی ہیں ۔ وفا ق میں جیسے جوڈیشل کمیشن تقرریوں کی سفارش کرتا ہے ایسے ہی آزادکشمیر بھی جوڈیشل کمیشن قائم ہو نا چاہیے،اس میں وکلاء، سابق ججز کو شامل کیا جائے، ہمارا پیٹرن وفاق کی طرف ہی جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے آزادکشمیر میں دوادوار رہے،میں نے منشور ضرور لگا لیکن افسوس ن لیگ کی حکومت نے منشور پر عمل کیا ،رسمی کارروائی پوری کرائی اسی لئے میں نے انہیں چھوڑ دیا۔
میں نے اپنے منشور میں معاشی حوالے سے گائیڈ لائنز دی تھیں اس پر عمل نہیں ہوااسی وجہ سے سابق الیکشن میں مسلم لیگ ن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، زکوۃ ، صدقات دینے سے ترقی نہیں ہوسکتی، لوگوں کو روزگار دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر حکومت لوگوں کو بھکاری نہ بنائے، روزگار دیا جائے،جو محتاج ہیں انکی مدد ہونی چاہیے لیکن باقی طبقات کو یہی رقم روزگار کیلئے دی جا نی چاہیے۔
یاد رہے کہ آزادکشمیر حکومت چیف الیکشن کمشنر اور ججز کی تقرریوں کا اختیار اپنے پاس لانے کی آئینی ترمیم لا رہی جس کی اتحادی پارٹی ن لیگ نے مخالفت کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مظفر آباد،تاریخی بارہ دری قبضہ مافیا سے محفوظ نہ رہی،ریکارڈ میں بھی ردوبدل کا انکشاف




