ماہرینِ صحت کے مطابق نیند کے معمولات اور الارم کے وقت میں معمولی سی تبدیلی بھی انسان کی باڈی کلاک یعنی جسمانی گھڑی کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مزاج اور صحت میں واضح بہتری دیکھی جا سکتی ہے ۔
ہر انسان کے جسم میں ایک قدرتی وقت کا نظام موجود ہوتا ہے جو سورج کے طلوع و غروب سے ہم آہنگ ہوتا ہے، تاہم بعض افراد کی جسمانی گھڑی دوسروں کے مقابلے میں قدرے سست یا تاخیر کا شکار ہوتی ہے ۔
کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ بعض دنوں میں الارم بجنے سے چند لمحے پہلے ہی آنکھ کھل جاتی ہے اور جاگتے ہی جسم ہلکا پھلکا اور تازگی سے بھرپور محسوس ہوتا ہے؟ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ جسم کے اندر کام کرنے والے ایک نہایت منظم نظام کا نتیجہ ہوتا ہے ۔
ماہرین کے مطابق انسانی دماغ وقت کو پہچاننے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ جب کوئی شخص روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت اپنا لیتا ہے تو دماغ اس معمول کو محفوظ کر لیتا ہے اور جسم کو بیدار ہونے کے لیے پہلے ہی تیار کرنا شروع کر دیتا ہے ۔
دماغ کا کنٹرول سینٹر:
دماغ کے اندر نیورونز کا ایک مخصوص حصہ موجود ہوتا ہے جسے سوپراچاسمیٹک نیوکلیئس کہا جاتا ہے۔ یہی حصہ جسم کی مرکزی گھڑی کا کردار ادا کرتا ہے اور نیند و بیداری کے ساتھ ساتھ جسمانی درجہ حرارت، بھوک، ہاضمہ اور توانائی کی سطح کو بھی منظم رکھتا ہے۔
یہ نظام روشنی اور اندھیرے کے اشاروں کو سمجھ کر جسم کو آگاہ کرتا ہے کہ کب آرام کا وقت ہے اور کب سرگرم ہونے کا۔
سرکیڈین ردھم کیا ہے؟
سرکیڈین ردھم دراصل جسم کے وہ تمام حیاتیاتی عمل ہیں جو چوبیس گھنٹوں میں مکمل ہوتے ہیں۔ نیند اور جاگنے کا پورا عمل اسی نظام کے تحت چلتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر انسان کا سرکیڈین ردھم ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ صبح کے وقت زیادہ توانا ہوتے ہیں جبکہ کچھ افراد رات کے اوقات میں زیادہ متحرک نظر آتے ہیں۔
ہارمونز کا کردار:
صبح کے قریب جسم میں کورٹیسول نامی ہارمون کی مقدار بڑھنے لگتی ہے، جو انسان کو جاگنے اور دن کے لیے تیار ہونے میں مدد دیتا ہے۔ اگر سونے جاگنے کا وقت باقاعدہ ہو اور دن کی شروعات مناسب روشنی میں کی جائے تو جسم کی ماسٹر کلاک جاگنے سے پہلے ہی متحرک ہو جاتی ہے، جس کا نتیجہ الارم سے پہلے بیداری کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔
اچھی علامت یا تشویش کی وجہ؟
اگر کوئی شخص الارم سے پہلے جاگ کر خود کو پرسکون، تازہ دم اور توانائی سے بھرپور محسوس کرے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ اس کی نیند معیاری ہے اور جسمانی گھڑی درست طریقے سے کام کر رہی ہے ۔
تاہم اگر الارم سے پہلے آنکھ کھلنے کے باوجود تھکن، بےچینی یا چڑچڑاپن محسوس ہو تو یہ نیند کی کمی، ذہنی دباؤ یا غیر متوازن روٹین کی علامت ہو سکتی ہے ۔
اسٹریس اور بےچینی کا اثر:
ماہرین کے مطابق ذہنی دباؤ اور اضطراب کی کیفیت کورٹیسول کی سطح کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیتی ہے، جس کے باعث نیند متاثر ہوتی ہے۔ اگر بار بار بہت جلد آنکھ کھل جائے اور دوبارہ نیند نہ آئے تو اسے نیند کے مسئلے کے طور پر سنجیدگی سے لینا چاہیے ۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نیند اور جاگنے کے اوقات میں باقاعدگی جسم کی اندرونی گھڑی کو درست رکھتی ہے۔ اس سے نہ صرف بہتر نیند حاصل ہوتی ہے بلکہ دن بھر توانائی اور ذہنی توازن بھی برقرار رہتا ہے ۔




