اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) میں مزید 5 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کا پلان تیار کر لیا ہے۔ اس اضافی رقم کا بنیادی مقصد گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کی ادائیگی ہے، جس کیلئے سرکارمختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے ۔
ذرائع کے مطابق گیس سیکٹر میں موجودہ گردشی قرضہ تقریباً 3,860 ارب روپے ہے، جس میں نان ریکوری، لائن لاسز، ٹیرف ڈیفرینشل، ٹیکس اور سود شامل ہیں۔ حکومت کا ہدف ہے کہ اس میں سے تقریباً 1,700 ارب روپے کو جلد از جلد ختم کیا جائے ۔
اس سلسلے میں اضافی پی ڈی ایل کی مد میں حاصل ہونے والی رقم اور گیس کمپنیوں سے حاصل ہونے والے ڈیویڈنڈ کو استعمال کیا جائے گا تاکہ گردشی قرضے کی ادائیگی میں تیزی لائی جا سکے ۔
منصوبے کے مطابق ایل این جی کی خریداری میں کمی کر کے بھی تقریباً 500 ارب روپے کی بچت کی جائے گی، جس سے گردشی قرضے پر دباؤ کم ہو گا ۔
مجموعی طور پر، اضافی PDL، ڈیویڈنڈ اور دیگر اقدامات کے ذریعے تقریباً 700 ارب روپے گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے دستیاب ہوں گے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پٹرولیم قیمتوں میں گیارہ روپے کی بڑی کمی کا امکان، سمری منظوری کیلئے تیار
حکومت کا طویل مدتی منصوبہ یہ ہے کہ گردشی قرضہ آئندہ چھ سالوں کے دوران مکمل طور پر ختم کر دیا جائے ۔
اس مقصد کے لیے وزارت خزانہ اور وزیراعظم آفس سے حتمی منظوری لینا ضروری ہے، جس کے بعد یہ پلان نافذ العمل ہوگا ۔
یہ اقدام نہ صرف گیس سیکٹر کے مالی مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ توانائی کے شعبے میں مالی استحکام بھی یقینی بنائے گا ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اضافی PDL اور دیگر اقدامات سے نہ صرف گردشی قرضے میں کمی آئے گی بلکہ توانائی کی قیمتوں پر بھی کنٹرول ممکن ہوگا۔
اس کے ساتھ ہی، حکومت عوامی اور صنعتی صارفین کو مستقبل میں زیادہ مستحکم توانائی فراہمی کی ضمانت دینے کی کوشش کر رہی ہے ۔




