واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سخت اقدامات کا سلسلہ آگے بڑھ گیا ہے اور اس سلسلے میں افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے افراد کے لیے ویزوں کا اجرا روکنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے نے اندرونِ امریکہ اور بین الاقوامی سطح پر مختلف حلقوں کی توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ اس فیصلے کا براہِ راست تعلق اُن افراد سے جڑا ہے جو افغان پاسپورٹ پر سفری دستاویزات رکھتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کا محکمہ ’’افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے تمام افراد کے لیے ویزوں کا اجرا روک رہا ہے‘‘۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن میں حالیہ فائرنگ کے واقعے کے بعد سکیورٹی خدشات میں اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق اس صورتحال کے پیش نظر سخت پالیسی اقدامات ضروری قرار دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹیکساس میں ایک اور افغان شہری دہشت گردی کے الزام میں گرفتار
دوسری جانب افغانوں کی دوبارہ آبادکاری میں مدد کرنے والے امریکی رضاکار گروپوں کے اتحاد ’افغان اویک‘ کے صدر شان وینڈائیور نے اس حکومتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’وہ ایک پُرتشدد فرد کو بہانہ بنا کر ایسی پالیسی کو نافذ کر رہے ہیں جس کا وہ پہلے سے منصوبہ بنا چکے تھے۔ وہ اپنی انٹیلی جنس کی ناکامیوں کو پوری کمیونٹی اور ان سابق فوجیوں کو سزا دینے کا جواز بنا رہے ہیں جو ان افغانوں کے ساتھ خدمت کر چکے ہیں۔‘‘
اس سے قبل بھی ٹرمپ انتظامیہ نے پناہ گزینوں سے متعلق تمام فیصلے روکنے کا اعلان کیا تھا۔ یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے ایکس پر اپنے بیان میں لکھا تھا کہ ’’پناہ گزینوں سے متعلق تمام فیصلے اُس وقت تک روک دیے گئے ہیں جب تک ہم یہ یقین نہ کر لیں کہ ہر اجنبی کی مکمل طور پر جانچ اور سکریننگ ہو چکی ہے‘‘۔
واشنگٹن میں پیش آنے والے واقعے کے بعد 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال کے خلاف فرسٹ ڈگری قتل سمیت مزید الزامات عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی امریکی اٹارنی جینین پیرو کے مطابق ملزم نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کے قریب ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی۔
متعلقہ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ رحمان اللہ لکنوال کا تعلق افغانستان سے ہے اور وہ امریکی شہری ہے، جو ماضی میں افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ خدمات انجام دے چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانیوں کیلئے ویزوں کی بندش بارے خبریں بے بنیاد ہیں : بخیت عتیق الرومیتی
صدر ٹرمپ نے اس واقعے کو ’’برائی، نفرت اور دہشت گردی‘‘ کی کارروائی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ مشتبہ شخص 2021 میں اُن ’’بدنامِ زمانہ پروازوں‘‘ کے ذریعے امریکہ پہنچا تھا جن سے افغان شہریوں کا انخلا کیا جا رہا تھا۔




