سپریم کورٹ نے بل بورڈز کو شہریوں کے لیے خطرناک قرار دے دیا

اسلام آباد : بل بورڈز سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ بل بورڈز نہایت خطرناک ہوتے ہیں اور شہریوں کی جان کو پیسوں کے لیے خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ عدالت نے پارکس اینڈ ہینڈی کرافٹ اتھارٹی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور سوال کیا کہ آندھی طوفان کے دوران بل بورڈ گرنے کی صورت میں جانی و مالی نقصان کی ذمہ داری کون لے گا۔

تفصیلات کے مطابق، وفاقی آئینی عدالت میں بل بورڈز نصب کرنے کی اجازت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس حسن رضوی نے واضح کیا کہ صرف فیس کی مد میں پیسہ اکٹھا کرنے کے لیے شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا اتھارٹی اس خطرے کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: قومی وحدت پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

جسٹس حسن رضوی کے مطابق، بل بورڈز کی غیر محتاط تنصیب شہریوں کی حفاظت کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر آندھی اور طوفان کے موسم میں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کسی بھی لمحے بل بورڈ گرنے سے جانی و مالی نقصان کا خدشہ موجود ہے۔

عدالت نے اس موقع پر پارکس اینڈ ہینڈی کرافٹ اتھارٹی کی کارکردگی پر سخت تشویش ظاہر کی اور واضح کیا کہ شہریوں کی حفاظت ہر حالت میں اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ عدالت کے ریمارکس میں کہا گیا کہ شہریوں کی زندگیوں کی قیمت پیسوں سے زیادہ ہے، اور اتھارٹی کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: آرمینیا نے بھارتی جنگی طیارےتیجس کی خریداری معطل کر دی

اس سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ بل بورڈز کی تنصیب کے دوران حفاظتی اقدامات اور ذمہ داری واضح ہونا لازمی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

Scroll to Top