سردیوں میں ٹھنڈی اور خشک ہوائیں نہ صرف بچوں کے پھٹے ہونٹ بلکہ بڑوں کی پھٹی ایڑھیوں جیسے تکلیف دہ مسائل کو بھی شدت دے دیتی ہیں۔ اس موسم میں جسم کی بیرونی سطح پر نمی تیزی سے کم ہونے لگتی ہے اور خشک ہوا براہِ راست جلد کو متاثر کرتی ہے، جس کے باعث پھٹی ایڑھیاں ایک عام مگر تکلیف دہ مسئلہ بن کر سامنے آتی ہیں۔
اگرچہ پھٹی ایڑھیاں ایک معمولی مسئلہ دکھائی دیتا ہے، لیکن مناسب دیکھ بھال نہ ہونے پر یہ دردناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔ سرد اور خشک ہوا جب ایڑھیوں میں بنی دراڑوں پر لگتی ہے تو تکلیف میں مزید اضافہ ہوتا ہے، جس کے باعث بہت سے لوگ سرد موسم میں زیادہ درد محسوس کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہوشیار! شہری 26منرل واٹر برانڈز کا پانی ہرگز استعمال نہ کریں،الرٹ جاری
سردی میں پھٹی ایڑھیوں کا مسئلہ زیادہ کیوں ہوتا ہے؟ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ سردی کی وجہ سے جلد کی نمی تیزی سے ختم ہوتی ہے اور وہ حصے جو پہلے ہی خشکی کا شکار ہوں، زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے ماہر امراض جلد کا کہنا ہے کہ پاؤں کی جلد میں تیل کے غدود کم ہوتے ہیں، اس لیے وہ قدرتی طور پر خشک رہتی ہے۔ سردی کے باعث یہ غدود مزید غیر فعال ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایڑھیاں پھٹ جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خشک ہونے کا عمل سرد موسم میں زیادہ تیز ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موٹاپے کی دوا سےفارما کمپنی کی مارکیٹ ویلیو ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی
ماہر امراض جلد کے مطابق چنبل، فنگل انفیکشن، ایگزیما، ذیابیطس اور تھائیرائیڈ کی بیماری بھی ایڑھیوں میں دراڑیں پیدا ہونے کی وجہ بن سکتی ہیں۔ سرد موسم میں یہ علامات زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں کیونکہ جلد پہلے ہی خشک ہوتی ہے۔
پھٹی ایڑھیوں کے لیے گھر پر کیے جانے والے آسان اور مفید طریقے:
چونکہ پھٹی ایڑھیاں زیادہ تر خشک جلد کی وجہ سے بنتی ہیں، اس لیے گھر پر کیے جانے والے علاج میں بنیادی توجہ جلد کو نمی فراہم کرنے پر ہوتی ہے۔
1: موئسچرائزنگ (Heel Balm):
موئسچرائزنگ پھٹی ایڑھیوں کے علاج کا پہلا مرحلہ ہے۔ غسل کے بعد موئسچرائزر لگانا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ اس وقت جلد نمی کو بہتر طور پر جذب کرتی ہے۔ اس کے بعد موزے پہن لینے سے موئسچرائزر ضائع نہیں ہوتا۔
2: پاؤں کو نیم گرم پانی میں بھگو کر نرم کرنا:
خشک اور سخت جلد کی بناوٹ کے باعث پھٹی ایڑھیوں کو سنبھالنے کے لیے پاؤں کو تقریباً 20 منٹ نیم گرم پانی میں بھگو کر نرم کرنا مددگار ہے۔ اس کے بعد پومیس اسٹون سے ہلکا سا مساج کیا جاتا ہے اور پھر موئسچرائزر لگایا جاتا ہے۔
3: رات کو کاٹن کے موزے پہننا:
کاٹن کے موزے رات بھر نمی کو برقرار رکھتے ہیں اور موئسچرائزر کے اثر کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔
4: ناریل کا تیل:
ناریل کے تیل میں جلد کو مضبوط بنانے اور انفیکشن سے بچانے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ جلد کی رکاوٹ کو مضبوط کرتا ہے اور خشکی میں کمی لاتا ہے۔
5: شہد:
شہد میں جراثیم کش خصوصیات پائی جاتی ہیں اور اسے فٹ اسکرب کی صورت میں استعمال کرنا پھٹی ایڑھیوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ شہد جلد کو نرم کرنے اور زخم بھرنے میں مدد دیتا ہے۔




