اسلام آباد کچہری خودکش حملہ:منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، 4 سہولت کار گرفتار، عطا اللہ تارڑ

اسلام آباد کچہری میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے کے حوالے سے سامنے آنے والی سرکاری معلومات کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی، جبکہ اس میں ملوث نیٹ ورک کے 4 سہولت کاروں کی گرفتاری بھی عمل میں آ چکی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے یہ تفصیلات میڈیا کے سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ تحقیقات کے ابتدائی جائزے میں حملے کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر نور محسود کا نام سامنے آیا، جس نے حملے کی منصوبہ بندی ساجد اللہ کے ذریعے کی۔ ساجد اللہ کو حملہ آور کا مرکزی ہینڈلر قرار دیا گیا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ خودکش بمبار اور ہینڈلر دونوں افغانستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور شنواری افغان شہری تھا، جو اسلام آباد میں ہونے والے حملے سے قبل پاکستان میں داخل ہوا۔ مزید یہ کہ حملہ آور کے نیٹ ورک کے بارے میں حاصل ہونے والی معلومات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کا براہ راست رابطہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں سے تھا۔

عطا اللہ تارڑ کے مطابق ساجد اللہ عرف ’شینا‘ خودکش بمبار کا ہینڈلر تھا، جو گزشتہ برس افغانستان گیا تھا۔

انہوں نے بیان دیا کہ ساجد اللہ 2024 میں افغانستان کے شہر جلال آباد گیا۔ جلال آباد سے کابل پہنچنے پر اسے اسلام آباد دھماکے کے منصوبے سے متعلق بریف کیا گیا‘۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 4 سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان میں وہ افراد شامل ہیں جنہوں نے حملہ آور کو ٹھکانہ، نقل و حمل اور مقامی سپورٹ فراہم کی۔

ذرائع کے مطابق گرفتار افراد سے اہم معلومات حاصل کی جا رہی ہیں، جبکہ مزید چھاپوں اور ممکنہ گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر خود کش حملہ، تحقیقات میں اہم پیشرفت

عطا اللہ تارڑ نے اس بات پر زور دیا کہ ‘حملہ سرحد پار موجود نیٹ ورکس کی سازش تھی’۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ملنے والے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ حملے کے پیچھے وہ دہشت گرد عناصر موجود ہیں جو پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ایجنسیاں مزید شواہد اکٹھے کر رہی ہیں تاکہ اس نیٹ ورک کے بین الاقوامی روابط کو بھی بے نقاب کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس دھماکے کا ماسٹر مائنڈ اور سہولت کار گرفتار

حملے کے بعد اسلام آباد میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی تھی۔ عدالتی عمارتوں اور حساس حکومتی تنصیبات کے اطراف اضافی نفری تعینات کی گئی۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر اقدامات کر رہی ہے اور دہشت گردی کے اس نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔

Scroll to Top