صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) صدر کے ہیڈکوارٹر پر پیر کی صبح دہشتگردوں نے اچانک خودکش حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں تین دہشتگرد ہلاک اور ایف سی کے تین پولیس جوان شہید جبکہ دو زخمی ہو گئے۔
سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آوروں نے صبح 8 بج کر 11 منٹ پر ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا۔ ایک حملہ آور نے مین گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا، جبکہ دیگر دو دہشتگرد گیٹ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن ایف سی کے بہادر جوانوں نے ان کی کوشش ناکام بنا دی اور انہیں گیٹ پر ہی ہلاک کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنوں میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، 17 دہشت گرد ہلاک
سی سی پی او کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ایف سی کے تین جوان شہید اور دو زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسپتال کے ترجمان کے مطابق زخمیوں کی حالت تسلی بخش ہے۔
انسپکٹر جنرل (آئی جی) ذوالفقار حمید کے مطابق ایف سی ہیڈکوارٹر پر دو خودکش دھماکے کیے گئے، ایک دھماکا مین گیٹ کے قریب اور دوسرا موٹر سائیکل اسٹینڈ کے قریب ہوا۔ دونوں حملہ آور مارے گئے جبکہ دھماکوں کے دوران ایف سی کے دو جوان زخمی ہوئے۔ ابتدائی تحقیقات سے واقعہ خودکش حملہ معلوم ہوتا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا اور پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ اہلکاروں نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں: تھانہ بسیہ خیل کے حدود میں خودکش دھماکے کی کوشش
ریسکیو ٹیمیں بروقت موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملے کے بعد کم از کم دو دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور فائرنگ کا تبادلہ بھی وقفے وقفے سے جاری رہا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان مقابلہ جاری تھا۔ سنہری مسجد روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔
سیکیورٹی ادارے واقعے کی نوعیت اور حملہ آوروں کی تعداد سے متعلق مزید معلومات جمع کر رہے ہیں، جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔




