اغواء

نائیجیریا : کیتھولک سکول سے 303 بچے اور 12 اساتذہ اغواء کر لیے گئے

ابوجا : نائیجیریا کے وسطی علاقے میں واقع ایک کیتھولک سکول سے مسلح افراد نے 300 طلبہ اوربارہ اساتذہ کو اغواء کر لیا ۔

نائیجیریا کی کرسچن ایسوسی ایشن کے مطابق نا ئیجر ریاست کے پاپیری میں موجود سینٹ میری سکول سے 303 طلبہ ، 12 اساتذہ اغواء کیے گئے ہیں اور خدشہ ہے کہ اغواء شدگان کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب اس علاقے میں مسلح گروہوں کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اغواء کی موجودہ تعداد 2014 کے بدنام زمانہ چیبوک اجتماعی اغواء، جس میں 276 افراد اغوءا ہوئے تھے، سے زیادہ ہے ۔

مقامی پولیس نے کہا ہے کہ مسلح افراد نے سکول پر حملہ کیا اور وہاں موجود طلبہ کو اغواء کر لیا ۔ سکیورٹی ادارے ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور پوری کوشش کر رہے ہیں کہ اغواء شدگان کو فوری طور پر زیاب کرایا جا سکے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارت میں مولانا ارشد مدنی کے بیان پر سیاسی ہلچل، لیبر قوانین کے خلاف ملک گیر احتجاج

وفاقی حکومت نے حفاظتی اقدامات کے طور پر تقریباً 50 وفاقی کالج بند کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جبکہ بعض ریاستوں میں سرکاری اسکول بھی بند کر دئیے گئے ہیں ۔

یہ تازہ اجتماعی اغواء اس ہفتے نائیجیریا میں پیش آنے والا تیسرا واقعہ ہے ۔ پیر کو کیبی ریاست کے ایک بورڈنگ سکول سے 25 لڑکیوں کو اغواء کیا گیا جبکہ بدھ کو کوارا ریاست میں عبادت کے دوران مسلح افراد نے 38 عبادت گزاروں کو اغواءکیا ۔

ادھر، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ واشنگٹن ، نائیجیریا کی حکومت پر عیسائی برادریوں کے بہتر تحفظ  کیلئے دباؤ ڈالنے کے منصوبے پر غور کر رہا ہے ، جس میں پابندیاں اور دہشت گردی کیخلاف پینٹاگون کی شمولیت شامل ہیں ۔

نائیجیریا کی حکومت کا موقف ہے کہ عیسائیوں کو نشانہ بنانے کے دعوے سکیورٹی کی پیچیدہ صورت حال کی صحیح عکاسی نہیں کرتے اور مذہبی آزادی کے تحفظ کی کوششوں کو نظرانداز کرتے ہیں ۔

Scroll to Top