ایکس پر صارفین کی لوکیشن جاننے کا نیا فیچر متعارف کرایا گیا ہے، جس نے کئی اکاؤنٹس سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ اس فیچر کے ذریعے اب صارفین یہ دیکھ سکیں گے کہ کچھ پاکستانی صارفین نے عمران خان، نواز شریف، مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو کے اکاؤنٹس کا بھی رُخ کیا۔
آج کل ہر کوئی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مختلف پروفائلز پر جا کر یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ کون کہاں سے ٹویٹ کر رہا ہے، چاہے وہ کوئی نیا دوست ہو یا مشہور شخصیت۔ بیشتر صارفین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کوئی اکاؤنٹ کس ملک یا شہر سے آپریٹ ہو رہا ہے۔
درحقیقت ایکس نے حال ہی میں اپنے پلیٹ فارم پر لوکیشن دکھانے کا نیا فیچر متعارف کرایا ہے۔ اب صارفین اپنے علاوہ دوسروں کی پروفائلز پر جا کر یہ دیکھ سکیں گے کہ کسی فرد یا اکاؤنٹ کا اصل مقام کیا ہے۔ اس فیچر کی مدد سے صارفین کے بارے میں مزید معلومات ظاہر ہوں گی تاکہ لوگ یہ جان سکیں کہ وہ پلیٹ فارم پر کس سے بات کر رہے ہیں۔
گذشتہ رات اس فیچر کا اعلان کرتے ہوئے ایکس کے ہیڈ آف پراڈکٹ نکیتا بئیر کا کہنا تھا کہ:’’چند گھنٹوں میں ہم About This Account (اس اکاؤنٹ کی معلومات) کے فیچر کو عالمی سطح پر متعارف کرائیں گے، جس سے آپ دیکھ سکیں گے کہ کوئی اکاؤنٹ کس ملک یا علاقے میں واقع ہے۔ یہ معلومات پروفائل پر ایکس پر اکاؤنٹ بنانے کی تاریخ پر ٹیپ کرنے سے دستیاب ہو گی۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: ایپل کی2026میں کم قیمت آئی فون اور میک ماڈلز لانچ کرنے کی تیاری
نکیتا بئیر نے مزید کہا کہ یہ اس سوشل پلیٹ فارم کی شفافیت اور سچائی کو یقینی بنانے کی جانب پہلا اہم قدم ہے۔ ’’ہم مستقبل میں صارفین کے لیے اور بھی طریقے فراہم کریں گے تاکہ وہ ایکس پر نظر آنے والے مواد کی صداقت کی تصدیق کر سکیں۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان ممالک کے لیے جہاں اظہارِ رائے پر پابندیاں ہیں، پرائیویسی ٹولز شامل کیے گئے ہیں تاکہ صارف صرف اپنا علاقہ ظاہر کر سکے اور تفصیلی لوکیشن نہ دکھائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: 30 اہم مقامات پر وائی فائی ہاٹ سپاٹس لگانے کا اعلان
اس فیچر کی ضرورت کے بارے میں نکیتا بئیر نے کہا کہ صارفین کو بہتر انداز میں فیصلہ کرنے کے قابل بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ جان سکیں کہ جس اکاؤنٹ کے ساتھ بات کر رہے ہیں وہ حقیقی ہے یا کوئی بوٹ یا نفرت پھیلانے والا اکاؤنٹ ہے۔ انہوں نے گذشتہ ماہ کہا:
’’جب آپ ایکس پر مواد پڑھ رہے ہوں تو آپ کو اس کی تصدیق کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ یہ دنیا میں ہونے والے اہم مسائل کی صورتحال سمجھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔‘‘





