مظفرآباد: وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور آج مظفرآباد شہر کے اہم دورے پر پہنچے۔ اس موقع پر انہوں نے کرنل آصف علی شہید کی قبر پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔ وزیراعظم نے شہید کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ اور عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ “مظفرآباد میرا اپنا شہر ہے اور اس کے مسائل کا مجھے پوری طرح ادراک ہے۔ بطور وزیر بلدیات میں نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا منصوبہ لانچ کیا۔ مسائل لامحدود ہیں اور وسائل محدود ہیں، تمام چیزیں ہمارے علم میں ہیں مگر ہمیں تھوڑا وقت درکار ہے۔ ہمیں پورا یقین ہے وفاق ہماری مدد کرے گی اور سارے پراجیکٹس جلد از جلد مکمل ہوں گے۔ ٹریفک کے لیے پورا پلان ترتیب دیں گے۔”
وزیراعظم نے اپنے والد، ممتاز حسین راٹھور، کے دور حکومت کا ایک دلچسپ واقعہ بھی میڈیا کے سامنے بیان کیا:”میرے والد کے پاس ایک شخص آیا، میرے والد نے اسے پانچ ہزار زکوة لکھ کر دیے، اس نے پانچ کو پچاس کر دیا۔ جب پولیس اسے گرفتار کر کے راٹھور صاحب کے پاس لائی تو انہوں نے پوچھا تم نے ایسا کیوں کیا؟ تو اس آدمی نے کہا، آپ ہی نے کہا تھا کہ ‘ریاست کا ہر شخص وزیراعظم ہوتا ہے’۔”اس بات سے مسکراہٹیں بکھر گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور حویلی پہنچ گئے، میگا پراجیکٹس کا اعلان
ایک صحافی نے پوچھا کہ آپ کو وفاق سے بہت سپورٹ حاصل ہے کیونکہ بلاول بھٹو بھی آپ کی تقریب حلف برداری میں آئے تھے اور کشمیری عوام نے انہیں بہت سراہا۔ دو، تین بڑے اہم پروجیکٹس ہیں جو سابقہ دور حکومت میں منظور ہوئے، ایک لوئر ٹوپا مری ایکسپریس وے ہے، مظفرآباد کیپیٹل سٹی کا کیپیٹل ڈیولپمنٹ پیکج تھا جو سابقہ حکومت نے منظور کیا۔ وہ PSDP اور ADP میں کب تک شامل کروائیں گے؟ وزیر اعظم نے جواب میں کہا کہ “ہمیں یقین ہے کہ وفاق ہمیں پورا سپورٹ کرے گی، PSDP کے جو پراجیکٹس ہیں ان پر جلد از جلد عمل درآمد ہوگا۔”
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد میں تیندوے کے حملے، بکریاں اور بھیڑیں مسلسل نشانہ
وزیراعظم نے مزید بتایا کہ ان کی وزیراعظم پاکستان سے ملاقات ہوئی تھی، جو ان کی روٹین آمد تھی اور وہ خود بھی ان سے ملیں گے تاکہ کشمیر کے منصوبہ جات پر تفصیل سے بات ہو سکے۔
وزیراعظم نے کہا: “کشمیر کے منصوبہ جات جن سے کشمیری عوام کی زندگیوں میں آسانیاں آ سکیں، صرف یہ نہیں بلکہ مانسہرہ روڈ منصوبہ بھی ہمارے سامنے ہے، ٹرپل ایم کا بھی منصوبہ ہمارے سامنے ہے۔ ہم کچھ نہ کچھ کوشش کریں گے کہ حکومت پاکستان سے تعاون لے سکیں تاکہ نہ صرف ریاست کے اندر بلکہ مظفرآباد کے اندر کوئی ایسا ہمارا سگنیچر پروجیکٹ آئے جس سے لوگوں کے لیے آسانیاں ہوں۔ ان شاء اللہ، وقت تھوڑا ہے لیکن یہ ٹی 20 ٹیم ہے، چھکے اور چوکے آپ کو مار کر دکھائیں گے۔”




