اسلام آباد: نادرا کی جعلی ویب سائٹ کا انکشاف سامنے آیا ہے جس کے بعد نیشنل سائبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو تحقیقات کے لیے شکایت جمع کرا دی گئی ہے۔
یہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے اور اس حوالے سے متعلقہ اداروں نے فوری کارروائی شروع کرنے کے لیے شکایات کے اندراج کو اولین قدم قرار دیا ہے۔ اس شکایت کا مقصد یہ ہے کہ جعلی ویب سائٹ کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں، خصوصاً برطانیہ میں مقیم افراد کو درپیش خطرات کو واضح کیا جائے اور انہیں ممکنہ فراڈ سے محفوظ رکھا جائے۔
ترجمان نادرا نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانی، خاص طور پر برطانیہ میں رہنے والے افراد، اس صورتحال میں انتہائی محتاط رہیں۔ ترجمان کے مطابق “نادرا کارڈ سنٹر” کے نام سے چلنے والی جعلی ویب سائٹ سے نادرا کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس پلیٹ فارم کو ایسی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا ہے جو نہ صرف دھوکا دہی کے زمرے میں آتی ہیں بلکہ جعلسازی کے ذریعے صارفین کی معلومات اور دستاویزات کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سنٹرل کرم میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 22 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک
ترجمان نادرا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نادرا کے نام پر شناختی کارڈ اور نائیکوپ سے متعلق کسی بھی قسم کی خدمات کی پیشکش، یا ملازمتوں کی فراہمی کے دعوے، سراسر فراڈ ہیں۔ اس تنبیہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسی جعلی ویب سائٹس پر ذاتی معلومات، اسناد یا ادائیگی فراہم کرنا انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ ان کا غلط استعمال ہوسکتا ہے۔ شہریوں کو اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ اس نوعیت کی ویب سائٹس کا مقصد صرف اوورسیز پاکستانیوں کو نشانہ بنا کر مالی نقصان پہنچانا اور ان کی دستاویزات تک رسائی حاصل کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی کرکٹرز کو بین الاقوامی لیگز میں شرکت کیلئے این او سی جاری
نادرا کی جانب سے جاری کردہ اس واضح انتباہ کا مقصد یہ ہے کہ عوام خود کو ایسے دھوکے سے بچائیں اور کسی بھی جعلی پلیٹ فارم پر معلومات فراہم کرنے سے گریز کریں۔ اس معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ اداروں سے بروقت رابطہ کرنے اور شکایت درج کرانے کی تاکید بھی کی گئی ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔




