مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)وائس چانسلر جامعہ کشمیر پروفیسر ناصر جمال خٹک کا کہنا تھا کہ مالیاتی خود انحصاری اور تعلیمی اہداف کے حصول کیلئے جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی۔۔
جامعات شفافیت، نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنی شناخت بنا کر ہی ترقی کرتی ہیں، 1 ارب سے زائد خسارے کا سامنا، جس سے نمٹنے کیلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر ناصر جمال خٹک نے فیکلٹی ممبران،انتظامی آفیسران اور ملازمین کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جامعہ کشمیر کو ایک ارب روپے سے زائد کے خسارہ کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کیلئے اجتماعی ذمہ داری کا احساس اور موثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
جامعہ کشمیر کے کنگ عبداللہ کیمپس کے مرکزی آڈیٹوریم میں 900ملازمین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یونیورسٹی کے پرنسپل آفیسران،سربراہان شعبہ جات،فیکلٹی ممبران،یونیورسٹی آفیسران اور ملازمین کو مالی مشکلات، انتظامی تقاضوں اور تعلیمی اہداف کے حصول کیلئے اپنی منصوبہ بندی کے متعلق تفصیلاً آگاہ کیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:دفاعی منصوبوں کیلئے50 ارب روپے کا بڑا پیکیج منظور
وائس چانسلر نے کہا کہ ادارے کو مالی مشکلات سے نکالنے اور تعلیمی اہداف حاصل کرنے کیلئے ہمیں اجتماعی ذمہ داری اور شفاف حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ جامعہ کشمیر کی ترقی کا انحصار ادارہ جاتی دیانت، محنت، اور شعبہ جاتی ہم آہنگی پر ہے۔ انہوں نے اساتذہ و ملازمین پر زور دیا کہ وہ ”ملازم“ کے بجائے ”شریکِ کار“ کی سوچ کے ساتھ کام کریں تاکہ نوجوان نسل کو معیاری اعلیٰ تعلیم فراہم کی جاسکے۔
پروفیسر خٹک نے جامعہ کی مالی صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے کو جاری مالی سال کے اختتام تک 1.304 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے، جس کی فوری فراہمی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جامعہ ہر سال اپنے ریٹائرڈ ملازمین کو 590.286 ملین روپے پنشن کی مد میں ادا کرتی ہے، جو پہلے ہی محدود مالی وسائل پر بھاری بوجھ بن چکا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جامعہ کو دیرپا مالی استحکام فراہم کرنے کے لیے وقف فنڈ کے لیے 2 ارب روپے اور علیحدہ پنشن فنڈ کے لیے مزید 2 ارب روپے کی ون ٹائم گرانٹ فراہم کی جائے۔
پروفیسر ناصر جمال خٹک جو خود بھی جامعہ کے انڈوومنٹ فنڈ میں ماہانہ بنیاد پر اپنے ذاتی وسائل سے حصہ ڈال رہے ہیں نے فیکلٹی ممبران اورسٹاف کو بھی اس میں شمولیت کی ترغیب دی۔
تعلیمی معیار اور ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے وائس چانسلر نے کہاکہ کوئی بھی جامعہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک شفافیت، نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنی شناخت نہ بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کا معیار تبھی بلند ہوتا ہے جب ہر فرد ذاتی نہیں ادارہ جاتی مفاد کو اولین ترجیح دے۔
”انہوں نے خود کو مکمل احتساب کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی اصلاحات ہمیشہ قیادت سے شروع ہوتی ہیں۔ اجلاس کے دوران انہوں نے اساتذہ اور عملے کے سوالات اور تحفظات کے تفصیلی جوابات دیئے
مختلف انتظامی و تعلیمی امور پر وضاحت فراہم کی۔اجلاس میں موجود اساتذہ و ملازمین نے وائس چانسلر کے کھلے انداز، براہِ راست گفتگو اور جامعیت کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کی نشستوں سے ادارے پر اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
اجلاس کے دوران پروفیسر خٹک نے اپنے ذاتی گرہ سے مسٹر عابد ضمیر ہاشمی (اسٹینوگرافر) کو ایک خصوصی نقد انعام بھی دیا جنہوں نے یونیورسٹی میں سالانہ داخلہ کے دوران ایک داخلہ لینے والے طالب علم کے والدین کے ساتھ مثالی تعاون اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا تھا۔
یونیورسٹی کی تاریخ میں یہ اجلاس اپنی نوعیت کا پہلاایسا اجلاس تھا جس میں جامعہ کے تقریباً 900 اساتذہ اور ملازمین نے شرکت کی۔




