آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ انہوں نے قانون ساز اسمبلی کا آئینی قتل عام کرنے یا اسمبلی توڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے کابینہ کے دوستوں اور عزیزوں کا نکتہ اتفاق یہ تھا کہ اسمبلی توڑ دی جائے، تاہم نظام کی جڑیں کاٹنا ان کی سرشت میں شامل نہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے سٹیٹس کو توڑنے کی پوری کوشش کی، لیکن اس معاملے میں وہ اصولی موقف پر قائم رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس خدشے کی بنیاد پر وہ استعفا دینے سے گریزاں تھے، اس پر اب اتمام حجت ہو چکی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر عدم اعتماد کے معاملے پر فورم پر بات کریں گے اور اپنے سیاسی موقف کے دفاع کے لیے تیار رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزادکشمیر کیخلاف تحریک عدم اعتماد، رائے شماری کیلئے پیر کو اجلاس طلب
چوہدری انوار الحق نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اڑھائی سال سے زبان پر تالا لگائے ہوئے تھے اور اب وہ آزاد ہیں۔ انہوں نے ماضی میں وزرائے اعظم پر عدم اعتماد کی وجوہات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ماضی میں بددیانتی، کرپشن، بیڈ گورننس اور انتقام جیسے چارجز پر وزرائے اعظم پر عدم اعتماد کیا گیا، لیکن ان کے خلاف موجودہ تحریک عدم اعتماد میں کوئی جان نہیں۔
وزیراعظم نے اپنے بیانیے اور عوامی نمائندگی کے اصول کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ حادثاتی سیاسی کارکن نہیں ہیں اور آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں کو آزادی اظہار کے لیے کھل کر بولنے کا موقع دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت میں اکثریت کے حکمرانی کے حق پر یقین رکھتے ہیں اور ان کا بیانیہ جو حکمرانی میں تھا، وہی بیانیہ اپوزیشن میں بھی ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف کے پی ٹی آئی سے متعلق نئے انکشافات، نئی بحث چھڑ گئی
چوہدری انوار الحق کا یہ موقف آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال میں ایک واضح پیغام کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس بیان سے یہ بات عیاں ہوئی کہ وزیراعظم اصولی اور عوامی نمائندگی کے حق پر قائم رہنے کو اولین ترجیح دیتے ہیں اور کسی بھی آئینی یا سیاسی دباؤ کے تحت نظام کی جڑیں کاٹنے یا اسمبلی توڑنے کا راستہ اختیار نہیں کریں گے۔ ان کی یہ پوزیشن علاقے میں سیاسی استحکام اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط اشارہ ہے۔




