وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے عدلیہ، ججز کے اختیارات اور آئینی عدالت کے قیام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ پر اثرانداز ہونے کا تاثر بے بنیاد ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نواز شریف کیخلاف فیصلے مخصوص بنچ نے سیاسی بنیادوں پر کیے ۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ آئین کی کون سی شق عدالتوں کے معاملات میں مداخلت کا سبب بن رہی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ججز کی تقرری کا اختیار بدستور جوڈیشل کمیشن کے پاس رہے گاجبکہ حکومت نے صرف ایک الگ آئینی عدالت قائم کی ہے، جیسی دنیا کے کئی ممالک میں موجود ہوتی ہے ۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ نظام درست نہیں کہ ایک عدالت کا جج دوسری عدالت کے مقدمات سنے ۔ ان کے مطابق نواز شریف اس وقت ملک کے وزیراعظم تھے لیکن سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے پورے نظام کو ہلا کر رکھ دیا اور انہیں نااہل قرار دیا ۔
خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف کو جان بوجھ کر سیاسی منظرنامے سے ہٹایا گیا ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق وزیراعظم کے دور میں ججز کے ’’ضمیر‘‘ کیوں خاموش رہے؟
انہوں نے کہا کہ موجودہ اصلاحات پر ججز کیوں پریشان ہیں اور کس وجہ سے کچھ جج ایک ہی بینچ یا عدالت میں رہنے پر اصرار کرتے ہیں؟ ان کے مطابق دنیا بھر میں ججز کے تبادلے معمول کا حصہ ہیں اور حکومت نے عدلیہ کو مزید خودمختار بنایا ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ جو ججز استعفیٰ دینے کی سوچ رہے ہیں وہ اس لیے بے چین ہیں کہ انہیں تبادلے کا خدشہ لاحق ہے جبکہ کئی ججز اپنی مدت ملازمت پوری ہونے کا انتظار کر رہے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آمد ورفت کم ہوگی تو دہشتگردی بھی کم ہوگی، خواجہ آصف کاافغانستان کے تجارت بند کرنے کے بیان پر ردعمل
ان کے مطابق ججز کو ایسی مراعات حاصل ہیں جن کا عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ججز پوری 16 لاکھ روپے ماہانہ پنشن وصول کرتے ہیں جبکہ سیاست چھوڑنے پر انہیں کوئی پنشن نہیں ملتی ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا ججز کی مراعات کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ان کے ثاقب نثار سے ذاتی تعلقات اچھے رہے ہیں ، اس کے باوجود ان پر گفتگو کرتے ہوئے دکھ محسوس ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے ڈیم فنڈ کے لیے عوام سے چندہ جمع کیا ۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے مقدمات قانون کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں اور مکمل عدالتی عمل کی پیروی کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ملک کیلئے نقصان کا باعث بن چکی ہے، اسے بند کرنا نقصان دہ نہیں بلکہ فائدہ مند ہوگا ۔
افغانستان کے نام پر درآمد ہونیوالا مال پاکستان میں فروخت کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی دہائیوں تک میزبانی کے بعد انہیں وطن واپس بھیجنے پر افسوس ضرور ہے مگر حالات نے یہ فیصلہ ناگزیر بنا دیا ہے ۔
خواجہ آصف نے یہ بھی الزام لگایا کہ دہشت گرد اکثر افغانستان میں پناہ لیتے ہیں اور وانا واقعے میں شامل تمام دہشت گرد افغان تھے۔ انکا کہنا تھا کہ40 برس کی میزبانی کے بدلے پاکستان کو دہشتگردی کا سامنا کرنا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے لیے مجوزہ امن فورس میں پاکستان کی شرکت ملک کے لیے اعزاز کا باعث ہوگی ۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دی اکانومسٹ کی رپورٹ پر قانونی کارروائی کرنا چاہے تو یہ اس کا حق ہے ۔ وزیر دفاع کے مطابق بشریٰ بی بی ہی بانی پی ٹی آئی پر اصل اثر و رسوخ رکھتی تھیں ۔




