جہلم ویلی میں تھانہ سٹی پولیس نے ایک اہم اور نتیجہ خیز کارروائی کے دوران تین ماہ قبل اغواء ہونے والی ایک لڑکی کو بحفاظت بازیاب کر لیا۔
واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب ضلع جہلم ویلی کے علاقے مکنینٹ سے ایک لڑکی کو ارباب ولد محمد اقبال، احسان ولد محمد اقبال اور ان کے ساتھ موجود دیگر 5 سے 6 افراد نے اغواء کر لیا تھا۔ اغواء کے فوراً بعد ملزمان مختلف شہروں میں روپوش ہو گئے، جس کے بعد یہ کیس پولیس کے لیے ایک مسلسل چیلنج بن گیا۔ لڑکی کے اغواء نے علاقے میں تشویش پیدا کر دی تھی اور اہلِ خانہ نے اس حوالے سے فوری کارروائی کی درخواست کی تھی۔
ایس ایچ او انسپکٹر منظر چغتائی نے واقعہ سامنے آتے ہی مقدمہ درج کیا اور اغواء کے مقدمے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا۔ ایس ایچ او منظر چغتائی نے جدید ٹیکنیکل ذرائع استعمال کرتے ہوئے مغویہ کی تلاش شروع کی۔ انہی تکنیکی ذرائع اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں پولیس ٹیم کو اثر انگیز سراغ ملتے گئے، جن کی بنیاد پر ملزمان کی ممکنہ موجودگی کا پتا چلایا گیا۔ پولیس ٹیم نے ان سراغوں پر کارروائی کرتے ہوئے مربوط حکمتِ عملی بنائی اور بالآخر وہ مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی جہاں سے لڑکی کو بازیاب کرایا جا سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا بھی مستعفی ہو گئے
پولیس ٹیم نے کارروائی کے دوران تمام ملزمان کو گرفتار کیا، جن میں مرکزی ملزم راجہ ارباب بھی شامل تھا۔ پولیس نے موقع سے لڑکی کو بحفاظت اپنے تحویل میں لیا اور بعد ازاں اسے اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا۔ اس کارروائی نے یہ واضح کر دیا کہ تھانہ سٹی پولیس نے کیس کو انتہائی سنجیدگی سے لیا اور اس کی پیروی مسلسل جاری رکھی۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے تین خلا باز ایک ہفتے بعد زمین پر واپس پہنچ گئے
ایس ایچ او منظر چغتائی نے اس موقع پر کہا کہ قانون کے مطابق ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیس کو ہر پہلو سے قانونی طور پر مضبوط بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔




