امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے خلاف آئندہ ہفتے قانونی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حالیہ تنازع نے قانونی طور پر معاملہ اٹھانے کی بنیاد فراہم کر دی ہے اور وکلا اس معاملے پر مکمل تیاری کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ اعلان ائیر فورس ون میں سفر کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سامنے آیا، جہاں انہوں نے بی بی سی کی جانب سے کی گئی ایڈیٹنگ، اس پر ہونے والی معذرت اور معاوضہ نہ دینے کے مؤقف پر کھل کر بات کی۔
یہ بھی پڑھیں: عمان کا ہنرمند افراد کیلئے نیا ثقافتی ویزا متعارف ،کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
بی بی سی کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا عندیہ:
ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ وکلا کی رائے کے مطابق بی بی سی سے ایک ارب ڈالر یا اس سے بھی زیادہ ہرجانہ طلب کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ قانونی طور پر مضبوط ہے اور وہ ممکنہ طور پر امریکا کی عدالت میں بی بی سی کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔ اس موقع پر ٹرمپ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اس معاملے پر ابھی تک ان کی برطانوی وزیراعظم سے بات نہیں ہوئی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر سے اس موضوع پر ضرور بات کریں گے۔
بی بی سی کی غلط ایڈیٹنگ پر معذرت:
خبر کے مطابق بی بی سی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کی غلط ایڈیٹنگ کرنے پر معافی مانگی ہے۔ تاہم ادارے نے معاوضہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے اس معذرت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کا فیصلہ برقرار رکھا۔ اس حوالے سے بی بی سی نے گزشتہ روز یقین دہانی بھی کرائی کہ 2024 میں نشر ہونے والی ٹرمپ کی ایڈٹ شدہ دستاویزی فلم دوبارہ نشر نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:راہول گاندھی نے بہار الیکشن میں مودی کی دھاندلی بے نقاب کردی
دستاویزی فلم کی دوبارہ نشریات نہ کرنے کی یقین دہانی:
بی بی سی کا مؤقف سامنے آنے کے بعد بھی ٹرمپ نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف غلط ایڈیٹنگ تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسے معاملے میں بدل چکا ہے جس کے قانونی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مناسب کارروائی ہی اس مسئلے کا حل ہے۔ بی بی سی کی جانب سے معافی اور مستقبل میں فلم نہ دکھانے کی یقین دہانی کے باوجود ٹرمپ کا کہنا ہے کہ قانونی راستہ اختیار کیے بغیر معاملہ مکمل نہیں ہوگا۔




