سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم بل میں اضافی ترامیم کی منظوری دے دی

اسلام آباد: سینیٹ نے جمعرات کے روز 27ویں آئینی ترمیم بل میں شامل اضافی ترامیم کی منظوری دے دی، یہ وہ ترامیم ہیں جو اس سے قبل قومی اسمبلی میں منظور کی گئی تھیں۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیمی بل دوبارہ ایوان میں پیش کیا، جس میں وہ تبدیلیاں شامل کی گئیں جو پہلے ایوان بالا نے منظور کی تھیں۔ بل کے حق میں 64 ووٹ جبکہ مخالفت میں 4 ووٹ آئے۔

اجلاس کی صدارت چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کی۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی جماعت اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے وہ ارکان جو پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ دیتے ہیں، آئین کے آرٹیکل 63-اے کے تحت نااہل ہو چکے ہیں کیونکہ وہ پہلے ہی ایوان میں اپنے استعفوں کا اعلان کر چکے تھے۔

تاہم، جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اگر کوئی رکن پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹ دیتا ہے تو اسے پارٹی سربراہ کے کہنے پر مستعفی ہونا چاہیے، اور یہ عمل آئین کے مطابق ہونا چاہیے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت کی کہ آئین کے آرٹیکل 63-اے کے تحت کسی رکن کی خودکار نااہلی کا تصور غلط ہے۔ ان کے مطابق، پارٹی سربراہ کو تحریری ریفرنس اسپیکر یا پریزائیڈنگ آفیسر کو بھیجنا ہوتا ہے، جو دو دن میں اس کا جائزہ لے کر الیکشن کمیشن کو بھجواتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی رکن کو نااہلی سے قبل اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق دیا جاتا ہے، کیونکہ بعض اوقات پارٹی ہدایات واضح طور پر نہیں پہنچتیں۔ جب تک مکمل آئینی عمل مکمل نہ ہو جائے، رکن اپنے عہدے پر برقرار رہتا ہے۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ انہیں اب تک کسی رکن کا تحریری استعفیٰ موصول نہیں ہوا۔ منظوری کے بعد ترمیمی بل صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو دستخط کے لیے ارسال کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ، فی تولہ قیمت میں 8 ہزار روپے سے زائد اضافہ

قومی اسمبلی میں منظوری:

گزشتہ روز قومی اسمبلی نے بھی 27ویں آئینی ترمیم بل کی منظوری دی تھی۔ اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں بل پر رائے شماری ہوئی، جس میں 234 ووٹ بل کے حق میں جبکہ چار مخالفت میں آئے۔

اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف، مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی ایوان میں موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس دھماکے کا ماسٹر مائنڈ اور سہولت کار گرفتار

اہم ترامیم:

نئے ترمیمی بل کے مطابق، آرمی چیف کا عہدہ اب “چیف آف ڈیفنس فورسز” کہلائے گا، جبکہ فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے اعزازی عہدے تاحیات برقرار رہیں گے۔

ایک “وفاقی آئینی عدالت” قائم کی جائے گی جس میں تمام صوبوں کی مساوی نمائندگی ہوگی اور اسے از خود نوٹس لینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

ہائی کورٹ کے جج کی تقرری کے لیے کم از کم تجربہ سات سال سے کم کر کے پانچ سال کر دیا گیا ہے۔

عدالتی تعیناتیوں میں صدر اور وزیر اعظم کا کردار مزید واضح کیا گیا ہے، جبکہ بعض اختیارات سپریم کورٹ سے نئی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

عدالتی کمیشن میں اب ایک ٹیکنوکریٹ بھی شامل ہوگا، جسے اسپیکر قومی اسمبلی نامزد کرے گا تاکہ اہلیت کی بنیاد پر نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس کے علاوہ، ریونیو اور ٹیکسیشن کے مقدمات میں اسٹے آرڈر کی مدت چھ ماہ سے بڑھا کر ایک سال کر دی گئی ہے۔ مدت ختم ہونے پر مقدمہ غیر فیصلہ شدہ رہا تو اسٹے خود بخود ختم ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈی جی آئی ایس پی آر کا طلبا کے ساتھ پاکستان آرمی کے کردار پر اجلاس

بل کے تحت صدرِ مملکت کو حاصل استثنیٰ صرف مدتِ صدارت تک محدود کر دیا گیا ہے، اور اگر کوئی سابق صدر دوبارہ کسی عوامی عہدے پر فائز ہوتا ہے تو یہ استثنیٰ ختم ہو جائے گا۔

Scroll to Top