اسلام آباد: پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2025 میں کاروں کی فروخت 17 ہزار 333 یونٹس تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال اکتوبر 2024 کے مقابلے میں 32 فیصد زیادہ ہے، جب 13 ہزار 108 یونٹس فروخت ہوئے تھے۔
ماہانہ بنیاد (MoM) پر کاروں کی فروخت میں صرف 1 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
ٹوپ لائن ریسرچ کی مائشہ سہیل کے مطابق سال بہ سال (YoY) فروخت میں اضافے کی بڑی وجوہات میں نئے ماڈلز کی متعارف کرائی گئی اقسام، شرح سود میں کمی، مہنگائی میں بہتری اور صارفین کے اعتماد میں اضافہ شامل ہیں۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ماہانہ فروخت تقریباً مستحکم رہی کیونکہ پاک سوزوکی موٹر کمپنی (PSMC) کی فروخت میں 18 فیصد کمی واقع ہوئی۔ کمپنی نے سال 2025 کے دوران اپنے آپریشنز میں ایک بڑے “ری سیٹ” کا عمل شروع کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس طلب
رپورٹ کے مطابق، پاک سوزوکی کی جانب سے روی، بولان، ایوری VX اور ویگن آر ماڈلز بند کیے جانے سے فروخت پر اثر پڑا۔ سوئفٹ کی فروخت میں 17 فیصد، روی میں 84 فیصد اور ایوری میں 28 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ بولان کی فروخت مئی 2025 کے بعد سے بالکل بند ہے۔
مالی سال 2025-26 کے پہلے چار ماہ (جولائی تا اکتوبر) میں آٹو سیکٹر کی مجموعی فروخت میں 46 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 40 ہزار 693 یونٹس کے مقابلے میں بڑھ کر 59 ہزار 600 یونٹس تک پہنچ گئی۔
انڈس موٹر کمپنی نے ماہانہ بنیاد پر سب سے زیادہ 44 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا، جس کے تحت کل 4 ہزار 529 یونٹس فروخت ہوئے۔ کرولا، یارس اور کراس ماڈلز کی فروخت میں 41 فیصد ماہانہ اور 78 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، جبکہ فورچیونر اور IMV ماڈلز کی فروخت میں بالترتیب 58 فیصد اور 83 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: تین ملکی ٹی20سیریز کیلئے زمبابوے کی ٹیم اسلام آباد پہنچ گئی
ہیونڈائی نشاط نے سالانہ بنیاد پر 82 فیصد کی سب سے زیادہ شرح نمو حاصل کی۔ کمپنی کے ٹوسان اور ایلینٹرا ماڈلز کی فروخت میں بالترتیب 2.7 گنا اور 3.1 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔




