اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت کے علاقے جی-11 میں واقع کچہری کے پارکنگ ایریا میں منگل کی دوپہر زوردار دھماکہ ہوا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ مبینہ طور پر ایک خودکش حملہ تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں وکلا اور سائلین بھی شامل ہیں، ہسپتال ذرائع کے مطابق بیشتر زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
اطلاعات کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب وکلا اور سائلین معمول کے مطابق کچہری میں موجود تھے۔ دھماکے کے فوراً بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دھویں کے گہرے بادل فضا میں بلند ہوگئے، جس سے پورے علاقے میں خوف اور افراتفری پھیل گئی۔
حکام نے فوری طور پر فائر بریگیڈ اور پولیس کی ٹیموں کو موقع پر پہنچایا۔ امدادی عملے نے آگ پر قابو پاتے ہوئے زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا، جہاں متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: کچہری کی پارکنگ میں گاڑی میں سلنڈر دھماکا، وکلا اور سائلین زخمی
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ انتہائی زوردار تھا، اس کی آواز کچہری کے اطراف کے علاقوں میں بھی سنائی دی۔ جائے حادثہ سے ایک شخص کا سر برآمد ہوا ہے، جس کی بنیاد پر ابتدائی طور پر یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حملہ آور خودکش بمبار تھا، تاہم حکام نے اس حوالے سے ابھی تصدیق نہیں کی۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد دھماکے اور اس سے قبل خیبر پختونخوا کے وانا میں کیڈٹ کالج پر دہشتگردانہ حملے کے درمیان روابط پائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں کارروائیاں بھارتی سرپرستی میں کی گئیں۔ بتایا گیا کہ بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں نے پہلے وانا کیڈٹ کالج پر حملہ کیا جسے سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنایا، اور بعد ازاں اسلام آباد میں خودکش دھماکہ کرایا گیا۔
ذرائع کے مطابق افغان طالبان اور فتنہ الخوارج سے وابستہ پراکسی گروپس بھی ان کارروائیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔ اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ پسِ پردہ عناصر کا تعین کیا جا سکے۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فی الحال پارکنگ ایریا کے قریب نہ جائیں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ واقعے کے بعد جائے وقوعہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: واناکیڈٹ کالج میں خوارجیوں کے خلاف آپریشن جاری،سیکیورٹی ذرائع
یہ واقعہ ایک بار پھر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوامی مقامات پر سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے مہلک دھماکوں اور دہشتگردانہ حملوں سے انسانی جانوں کا نقصان روکا جا سکے۔




