اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری کیلئے سینیٹ اجلاس جاری ہے
، پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو اور جمعیت علماء اسلام ف کے سینیٹر احمد خان نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تاررڑ نے آئینی ترمیمی بل کی تحریک پیش کی۔
27ویں آئینی ترمیم پیش کرنے کی تحریک پر ایوان میں ووٹنگ کے دوران 64 ارکان سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کی شق 2 کے حق میں ووٹ دیا۔
اپوزیشن ارکان بائیکاٹ کرکے سینیٹ سے واک آؤٹ کرگئے، پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو اور احمد خان نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔
پی ٹی آئی ارکان نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے احتجاج کیا، سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نشست پر بیٹھے رہے، احتجاج میں شریک نہیں ہوئے۔
سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو آئینی ترمیم پیش کرنے کی تحریک کے حق میں کھڑے ہوئے، جے یو آئی کے احمد خان بھی تحریک کے حق میں کھڑے ہو گئے۔
آرٹیکل 78 میں ترمیم متعلقہ پیراگراف میں وفاقی آئینی عدالت کا ذکر شامل کرنے کی ترمیم بھی منظور کی گئی، اس دوران پی ٹی آئی اراکین ایوان سے واپس چلے گئے۔
آرٹیکل 81 کے دونوں پیراگراف میں عدالت کا اضافہ کرنے کی ترمیم بھی منظورکرلی گئی۔
پی ٹی آئی کے صرف سیف اللہ ابڑو ایوان میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ترمیم کے حق میں ووٹ دے رہے ہیں۔
آرٹیکل 93 میں وزیر اعظم کو 7مشیروں کی تقرری کا اختیار دینے کی ترمیم منظور کرلی گئی،
آرٹیکل 100 میں لفظ سپریم کی جگہ وفاقی آئینی عدالت شامل کرنے کی ترمیم منظور کی گئی۔
سینیٹر فلک ناز چترالی، سینیٹر فوزیہ ارشد مسلسل چور چور کے نعرے لگا رہے ہیں۔
آرٹیکل 114میں وفاقی آئینی عدالت کا نام شامل کرنے، آرٹیکل 130م وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافے، آرٹیکل 165 اے میں وفاقی آئینی عدالت کے نام کا اضافہ کرنے
آرٹیکل 175 کی تعریف میں وفاقی آئینی عدالت پاکستان کا ذکر شامل کرنے اور آئین پاکستان میں آرٹیکل 175اے میں ترامیم منظور کرلی گئیں۔
جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو سے متعلق سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے ایک ایک سینئر ججز شامل کرنے، اعلی عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کیلئے آرٹیکل 175اے میں ترمیم، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کے ممبر ہونے کی ترمیم بھی منظور کرلی گئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فاروق حیدر حلقہ7 سے پارٹی امیدوار ہونگے، لیاقت علی اعوان کا اعلان




