پشاور، اسلام آباد : خیبر پختونخوا میں مساجد سے متعلق توہین آمیز گفتگو کے بعد سائبر کرائم نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا (کے پی کے) سہیل آفریدی کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی ہے ۔
ذرائع کے مطابق صوبائی وزیراعلیٰ کی جانب سے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر کچھ ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جنہیں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا اور توہین آمیز قرار دیا گیا ۔
سائبر کرائم حکام نے کہا کہ ایف آئی آر درج کرنے کا مقصد اس بات کی تحقیقات کرنا ہے کہ آیا وزیراعلیٰ کی طرف سے کی گئی گفتگو کسی قانونی حدود کی خلاف ورزی کرتی ہے یا نہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:خیبر یونین آف جرنلسٹس کا وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کے بیان پر شدید ردِعمل
فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں سوشل میڈیا کے مختلف مواد کو بطور ثبوت شامل کیا گیا ہے اورفوری طور پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔
خیال رہے کہ وزیراعلیٰ کے بیان پر صوبے کے مختلف حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے ۔ مذہبی رہنماؤں اور وکلاء نے وزیراعلیٰ کے بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ان کے ایسے بیانات عوامی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہیں ۔
اس حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت نے بھی محتاط رویہ اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عمران خان سہیل آفریدی کو نہیں جانتے تھے،کس کے کہنے پر سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ نامزد کیا؟
سائبر کرائم حکام کا مزید کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی اور اگر کسی کی ذمہ داری ثابت ہوئی تو سخت سزا دی جائے گی ۔
اس واقعے کے بعد صوبے میں سوشل میڈیا کے استعمال پر بھی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ آئندہ اس طرح کے حالات پیدا نہ ہوں ۔




