اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے ایک اہم وضاحت جاری کرتے ہوئے افسران اور اہلکاروں کی درجہ بندی باضابطہ طور پر واضح کر دی ہے۔ فنانس ڈویژن کے جاری کردہ آفس میمورنڈم کے مطابق، حکومت نے سرکاری محکموں میں کام کرنے والے ملازمین کے گریڈ کی بنیاد پر ان کی کیٹیگری متعین کر دی ہے۔
میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ گریڈ 1 سے لے کر گریڈ 16 تک کے گورنمنٹ سرونٹس کو “اہلکار” تصور کیا جائے گا، جبکہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے گورنمنٹ سرونٹس کو “افسر” قرار دیا گیا ہے۔ اس وضاحت کا بنیادی مقصد حکومت کی جانب سے دی جانے والی مختلف سہولتوں اور مراعات کے نظام میں شفافیت لانا اور افسران و اہلکاروں کے درمیان واضح فرق پیدا کرنا ہے۔
فنانس ڈویژن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 2025 کے “ریسیپٹ اینڈ پیمنٹ رولز” کے تحت “افسران” ان ملازمین کو کہا جائے گا جن کا بنیادی پے اسکیل گریڈ 17 یا اس سے زیادہ ہو، جبکہ گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین “اہلکار” کی کیٹیگری میں شمار ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کیلئے ہائوس رینٹ سیلنگ میں 85 فیصد اضافہ منظور
سرکاری دستاویز کے مطابق، افسران کو ہاؤس بلڈنگ ایڈوانس کی مد میں 24 ماہ کی بنیادی تنخواہ تک رقم فراہم کی جا سکتی ہے، جبکہ اہلکاروں کے لیے یہ مدت 36 ماہ مقرر کی گئی ہے۔ اس وضاحت سے ملازمین کے درمیان مراعات کے نظام کو منظم اور شفاف بنانے میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 31 اکتوبرکو جاری کرنے کا حکم
یہ فیصلہ حکومت کے انتظامی ڈھانچے میں بہتری اور واضح پالیسیوں کے نفاذ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ درجہ بندی کے اس نئے طریقہ کار کے بعد تمام سرکاری اداروں میں سہولتوں کی تقسیم گریڈ کی بنیاد پر کی جائے گی، جس سے افسران اور اہلکار دونوں کو اپنے حقوق اور مراعات کے بارے میں واضح آگاہی حاصل ہو گی۔




