تل ابیب :اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو غزہ میں فوری اور شدید حملے کرنے کا حکم دے دیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے جواب میں کیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ آج جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں اسرائیلی فوجیوں پر حملہ ہوا۔
عرب میڈیا کے مطابق رفح کے علاقے میں شدید جھڑپوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں جبکہ اسرائیلی فوج کی جانب سے توپ خانے اور ٹینکوں سے بمباری بھی کی گئی۔
اسرائیلی وزیراعظم دفتر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فوج کو غزہ میں “طاقتور” حملے کرنے کا حکم دیا ۔یہ فیصلہ نیتن یاہو کے الزام کے بعد سامنے آیا کہ حماس نے جنگ بندی معاہدے کی “واضح خلاف ورزی” کی ۔
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے 10 اکتوبر سے جنگ بندی کی 125 خلاف ورزیاں کی ہیں، جن میں 94 فلسطینیوں کا قتل بھی شامل ہے۔
جنگ بندی کے باوجود پورے غزہ میں دھماکوں اور ڈرونز کی آوازیں جاری ہیں “یہ صرف ایک مستقل یاد دہانی ہے کہ یہ جنگ بندی کتنی نازک ہے،”
الجزیرہ کے ہانی محمود نے غزہ شہر سے رپورٹ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی غزہ پر اسرائیل کی جنگ میں کم از کم 68,527 افراد ہلاک اور 170,395 زخمی ہو چکے ہیں۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں کیے گئے حملوں کے دوران اسرائیل میں کل 1,139 افراد مارے گئے اور تقریباً 200 کو یرغمال بنا لیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا نے قبل ازیں غزہ کے جنوبی شہر رفح میں اسرائیلی فوج اور حماس کے جنگجوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی خبر دی تھی۔ اسرائیلی فوج نے ان رپورٹوں پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
حماس نے کہا کہ وہ جنگ بندی کی شرائط کی تعمیل کر رہی ہے اور نیتن یاہو اسرائیل کی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹنے کے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی نافذ ہے لیکن دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کا الزام لگایا ہے۔
جنگ بندی کی شرائط کے تحت، حماس نے تقریباً 2,000 فلسطینی مجرموں اور جنگ کے وقت قیدیوں کے بدلے میں تمام زندہ یرغمالیوں کو رہا کیا، جب کہ اسرائیل نے اپنی فوجیں واپس بلا لیں اور اپنی کارروائی روک دی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فلسطین میں فلسطینی عوام کی خودمختاری کے اصول کو برقرار رکھنا چاہیے:چینی وزیر خارجہ




