آزاد کشمیر کے وزیراعظم انوارالحق نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا،ذرائع

مظفرآباد :وزیراعظم آزاد کشمیر انوارالحق نے بالآخر مستعفی ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اپنے چند قریبی وزراء اور عزیزوں سے طویل مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ وہ تحریکِ عدم اعتماد کا سامنا کرنے کے بجائے باعزت طور پر استعفیٰ دیں گے۔

استعفیٰ کا باضابطہ اعلان متوقع:

وزیراعظم سیکرٹریٹ کے مطابق، وزیراعظم آزاد کشمیر آج شام یا کل باقاعدہ طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کریں گے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز وزیراعظم کو استعفیٰ دینے کے لیے آج تک کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔ اگر وہ استعفیٰ نہ دیتے تو منگل کے روز پاکستان پیپلز پارٹی قانون ساز اسمبلی میں ان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کروانے والی تھی۔

پیپلز پارٹی کی عدم اعتماد کی تیاری مکمل:

باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے پہلے ہی قانون ساز اسمبلی میں 17 ارکان کے دستخطوں سے تحریکِ عدم اعتماد جمع کروا رکھی ہے۔ سپیکر اسمبلی نے اس تحریک پر رسید نمبر لگا کر اسے اپنے پاس محفوظ رکھا ہوا ہے تاکہ اگر وزیراعظم اسمبلی تحلیل کرنے کی کوشش کریں تو فوری طور پر تحریک کو پیش کیا جا سکے۔

وزراء کی مشاورت اور فیصلہ:

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے ساتھ موجود وزراء نے بھی انہیں یہی مشورہ دیا کہ اسمبلی تحلیل کرنے یا تحریکِ عدم اعتماد کا سامنا کرنے کے بجائے استعفیٰ دینا بہتر راستہ ہے۔ ان کے قریبی ساتھیوں کا ماننا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک باوقار طریقے سے منصب چھوڑنا ہی ان کے لیے سیاسی طور پر زیادہ سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی کے عشائیہ میں27ممبران کی شرکت، انوارالحق مستعفی ہوں، چوہدری یاسین

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر کے اس فیصلے کے بعد خطے کی سیاست میں ایک نیا موڑ آنے کا امکان ہے جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے آئندہ سیاسی حکمت عملی پر بھی نگاہیں مرکوز ہیں۔

Scroll to Top