استنبول میں ہونے والی اہم بات چیت کے دوران پاکستانی وفد نے افغان طالبان کے وفد کو اپنا حتمی اور دوٹوک مؤقف پیش کر دیا ۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گرد عناصر کی سرپرستی منظور نہیں ۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد نے مذاکرات کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس، مؤثر اور یقینی اقدامات کرنا ناگزیر ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بلوچستان : مقامی قبائل اور فتنہ الہندوستان میں جھڑپ ، 4 دہشت گرد ہلاک، 2زخمی
وفد نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کے لیے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف واضح اور عملی کارروائیاں ضروری ہیں ۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق لبان کا رویہ غیر حقیقت پسندانہ اور زمینی حقائق سے ہٹ کر نظر آیا طالبان وفد کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل کو غیر منطقی قرار دیتے ہوئے ذرائع نے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ طالبان کسی اور ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ۔
جو نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان اور پورے خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں نہیں،مذاکرات میں مزید پیشرفت افغان طالبان کے مثبت رویے پر منحصر ہے ۔




