بھارت کو پاکستان کیخلاف افغان طالبان حمایت مہنگی پڑ گئی

افغانستان کی نیشنل موبلائزیشن فرنٹ (این ایم ایف) نے بھارت کو دوبارہ سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی حمایت بند کرے۔ این ایم ایف کے مطابق بھارت کی طالبان نواز پالیسی خطے میں عدم استحکام اور دہشت گردی کے فروغ کا باعث بن رہی ہے۔

این ایم ایف کا بھارت پر انتباہ:

این ایم ایف نے کہا کہ “ہندوستان کو دوسری بار متنبہ کیا جاتا ہے کہ افغانستان میں طالبان اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی حمایت بند کرے”۔ این ایم ایف نے بھارت کے رویے کو “دوغلے پن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “افغانستان میں معصوم لوگوں کے قاتل طالبان کی حمایت ہندوستان کے دوغلے رویہ کو ظاہر کرتی ہے”۔

این ایم ایف نے مزید کہا کہ “دنیا میں جمہوریت کا دعویدار بھارت دہشت گردوں کو سہارا دے رہا ہے” اور “کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنا طالبان کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے”۔ این ایم ایف نے سوال کیا کہ “کیا ہندوستان طالبان کے جرائم کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ہی ملک میں انتشار پھیلانے کا سبب بننا چاہتا ہے؟”

بھارت کی حمایت کے ممکنہ نتائج:

این ایم ایف نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے حمایت جاری رکھی تو طالبان نہ صرف افغانستان بلکہ ہندوستان کو بھی اپنے ہدف میں شامل کریں گے۔ این ایم ایف نے کہا کہ “افغان آزادی پسند تحریکیں ہندوستان میں خالصتان کی تحریک سے بھی مکمل تعاون بحال کریں گی” اور “ہندوستان کی طالبان سے حمایت ان تحریکوں کے اتحاد کا باعث بنے گی”۔

این ایم ایف نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر “طالبان، داعش اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں سے اپنے تعلقات منقطع کرے”۔ این ایم ایف نے واضح کیا کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو آنے والے تمام منفی نتائج کی ذمہ داری ہندوستان پر عائد ہوگی۔

خطے میں عدم استحکام پھیلانے کی بھارتی کوششیں:

این ایم ایف کے مطابق انتہا پسند بھارتی حکومت پورے خطے میں عدم استحکام اور دہشت گردی پھیلانے میں مصروف ہے۔ افغانستان میں طالبان کی حمایت، سرحد پار دہشت گردی اور دہشت گرد گروہوں کو سہارا دینے کی پالیسی بھارت کے لیے مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے گھریلو گیس کنیکشنز کھولنے کا اعلان کر دیا

این ایم ایف کی طرف سے یہ انتباہ بھارت کے لیے ایک بار پھر واضح کر دیتا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حمایت نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔

Scroll to Top